صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
46. باب استحباب طلب الشهادة في سبيل الله تعالى:
باب: اللہ کی راہ میں شہادت مانگنے کا ثواب۔
ترقیم عبدالباقی: 1909 ترقیم شاملہ: -- 4930
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا، وقَالَ حَرْمَلَةُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ بِصِدْقٍ.
ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ حرملہ کے ہیں۔۔ ابوطاہر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، حرملہ نے کہا: حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوشریح نے حدیث بیان کی کہ سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے اللہ کی شہادت مانگے، اللہ اسے شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے، چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو۔“ ابوطاہر نے اپنی حدیث میں ”سچے (دل) سے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4930]
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان سچائی کے ساتھ شہادت کی اللہ سے درخواست کرتا ہے، اللہ اسے شہادت کے مقامات پر پہنچا دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو۔“ ابو طاہر کی حدیث میں صدق (سچائی) کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4930]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1909
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3164
| من سأل الله الشهادة بصدق بلغه الله منازل الشهداء وإن مات على فراشه |
صحيح مسلم |
4930
| من سأل الله الشهادة بصدق بلغه الله منازل الشهداء وإن مات على فراشه |
جامع الترمذي |
1653
| من سأل الله الشهادة من قلبه صادقا بلغه الله منازل الشهداء وإن مات على فراشه |
سنن أبي داود |
1520
| من سأل الله الشهادة صادقا بلغه الله منازل الشهداء وإن مات على فراشه |
سنن ابن ماجه |
2797
| من سأل الله الشهادة بصدق من قلبه بلغه الله منازل الشهداء وإن مات على فراشه |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4930 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4930
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حسن نیت اور دل کی گہرائی سے کسی عمل کی تمنا اور آرزو کرنا،
اس قدر پاکیزہ عمل ہے،
کہ انسان کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے بغیر ہی اس کا صلہ اور اجر عنایت فرما دیتا ہے،
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص نیت کی توفیق بخشے۔
فوائد ومسائل:
حسن نیت اور دل کی گہرائی سے کسی عمل کی تمنا اور آرزو کرنا،
اس قدر پاکیزہ عمل ہے،
کہ انسان کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے بغیر ہی اس کا صلہ اور اجر عنایت فرما دیتا ہے،
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص نیت کی توفیق بخشے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4930]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1520
توبہ و استغفار کا بیان۔
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1520]
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1520]
1520. اردو حاشیہ: دعا کی قبولیت کےلئے سچے دل سے دعا کرنا شرط ہے کیونکہ صدق واخلاص ہی پر تمام اعمال کا دارومدار ہے۔ ونسال اللہ التوفیق
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1520]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3164
(اللہ کے راستے میں) شہادت مانگنے کا بیان۔
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3164]
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3164]
اردو حاشہ:
”سچے دل کے ساتھ“ نہ کہ جھوٹ موٹ اظہار خطابت کے لیے جیسا کہ عام رواج ہے۔ (2) ”شہادت مانگے گا“ یہ موت کی دعا نہیں بلکہ اچھی موت کی دعا ہے‘ جب بھی آئے۔ اور یہ مستحب ہے۔
”سچے دل کے ساتھ“ نہ کہ جھوٹ موٹ اظہار خطابت کے لیے جیسا کہ عام رواج ہے۔ (2) ”شہادت مانگے گا“ یہ موت کی دعا نہیں بلکہ اچھی موت کی دعا ہے‘ جب بھی آئے۔ اور یہ مستحب ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3164]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2797
اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب۔
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2797]
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2797]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اخلاص کی برکت بہت عظیم ہے۔
(2)
شہادت کی تمنا رکھنا بہت بڑا عمل ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اخلاص کی برکت بہت عظیم ہے۔
(2)
شہادت کی تمنا رکھنا بہت بڑا عمل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2797]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1653
شہادت کی دعا مانگنے کا بیان۔
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ مرے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1653]
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ مرے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1653]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اگر وہ شہید ہوکر نہ مرے تو بھی وہ شہداء کے حکم میں ہوگا اور شہیدوں کا ثواب اسے حاصل ہوگا گویا شہادت کے لیے صدق دل سے دعا کرنے کی وجہ سے اسے یہ مرتبہ حاصل ہوا۔
اللہ کی راہ میں شہادت کی دعااہلِ ایمان کو کرتے ہی رہنی چاہئے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اگر وہ شہید ہوکر نہ مرے تو بھی وہ شہداء کے حکم میں ہوگا اور شہیدوں کا ثواب اسے حاصل ہوگا گویا شہادت کے لیے صدق دل سے دعا کرنے کی وجہ سے اسے یہ مرتبہ حاصل ہوا۔
اللہ کی راہ میں شہادت کی دعااہلِ ایمان کو کرتے ہی رہنی چاہئے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1653]
أسعد بن سهل الأنصاري ← سهل بن حنيف الأنصاري