علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب إباحة الضب:
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے (یعنی سوسمار کا)۔
ترقیم عبدالباقی: 1949 ترقیم شاملہ: -- 5041
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَقَالَ: " لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا۔ آپ نے اسے کھانے سے انکار کیا اور فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ شاید یہ (سانڈا بھی) ان قوموں میں سے ہو جن میں مسخ ہوا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5041]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضب لائی گئی، تو آپ نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”میں نہیں جانتا، شاید یہ ان نسلوں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5041
| لا أدري لعله من القرون التي مسخت |
جامع الترمذي |
1472
| أمره بأكلهما |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5041 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5041
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث کے مضمون سے یہ ثابت ہوتا ہے،
آپ نے یہ بات آغاز میں فرمائی تھی،
جب کہ آپ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ مسخ کردہ لوگوں کی نسل نہیں چلتی،
جب آپ کو اس سے آگاہ کر دیا گیا تھا،
تو آپ نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث کے مضمون سے یہ ثابت ہوتا ہے،
آپ نے یہ بات آغاز میں فرمائی تھی،
جب کہ آپ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ مسخ کردہ لوگوں کی نسل نہیں چلتی،
جب آپ کو اس سے آگاہ کر دیا گیا تھا،
تو آپ نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5041]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1472
پتھر سے ذبح کئے ہوئے جانور کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے ایک آدمی نے ایک یا دو خرگوش کا شکار کان اور ان کو پتھر سے ذبح کیا ۱؎، پھر ان کو لٹکائے رکھا یہاں تک کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1472]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے ایک آدمی نے ایک یا دو خرگوش کا شکار کان اور ان کو پتھر سے ذبح کیا ۱؎، پھر ان کو لٹکائے رکھا یہاں تک کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1472]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس شرط کے ساتھ کہ پتھر نوکیلا ہو اور اس سے خون بہہ جائے ”ما أنهر الدم' کا یہی مفہوم ہے کہ جس سے خون بہہ جائے اسے کھاؤ۔
2؎:
علماء کی یہ رائے درست ہے،
کیوں کہ باب کی حدیث سے ان کے قول کی تائید ہوتی ہے۔
3؎:
یعنی شعبی نے محمد بن صفوان اور جابر بن عبداللہ دونوں سے روایت کی ہو۔
وضاحت:
1؎:
اس شرط کے ساتھ کہ پتھر نوکیلا ہو اور اس سے خون بہہ جائے ”ما أنهر الدم' کا یہی مفہوم ہے کہ جس سے خون بہہ جائے اسے کھاؤ۔
2؎:
علماء کی یہ رائے درست ہے،
کیوں کہ باب کی حدیث سے ان کے قول کی تائید ہوتی ہے۔
3؎:
یعنی شعبی نے محمد بن صفوان اور جابر بن عبداللہ دونوں سے روایت کی ہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1472]
Sahih Muslim Hadith 5041 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري