صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب سن الاضحية:
باب: قربانی کی عمر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1964 ترقیم شاملہ: -- 5083
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن مدینہ میں نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر لی۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کر لی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ (کے نماز اور خطبے سے فارغ ہونے) سے پہلے قربانی کر لی وہ ایک اور قربانی کریں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص قربانی نہ کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5083]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینہ میں قربانی کے دن نماز پڑھائی، تو کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کر قربانی کی، انہوں نے خیال کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کرلی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جنہوں نے آپ سے پہلے قربانی کرلی تھی، دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک قربانی نہ کریں، تم قربانی نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5083]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1964
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5083 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5083
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اکثر ائمہ کے نزدیک اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ عید کے بعد قربانی کرتے تھے،
اس لیے قربانی عید کی نماز کے بعد کی جائے گی،
اگر کوئی عید سے پہلے قربانی کر دے گا،
تو وہ قربانی نہیں ہو گی اور مالکیہ کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے،
امام کی قربانی کے بعد قربانی کی جائے گی،
جس نے امام سے پہلے قربانی کر دی،
اس کی قربانی نہیں ہو گی۔
فوائد ومسائل:
اکثر ائمہ کے نزدیک اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ عید کے بعد قربانی کرتے تھے،
اس لیے قربانی عید کی نماز کے بعد کی جائے گی،
اگر کوئی عید سے پہلے قربانی کر دے گا،
تو وہ قربانی نہیں ہو گی اور مالکیہ کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے،
امام کی قربانی کے بعد قربانی کی جائے گی،
جس نے امام سے پہلے قربانی کر دی،
اس کی قربانی نہیں ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5083]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري