یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
89. باب في قوله تعالى: {وانذر عشيرتك الاقربين}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
ترقیم عبدالباقی: 208 ترقیم شاملہ: -- 509
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا، فَقَالَ: " يَا صَبَاحَاهْ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214.
(ابواسامہ کے بجائے) ابومعاویہ نے اعمش سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کوہ صفا پر چڑھے اور فرمایا: ”وائے اس کی صبح (کی تباہی!)“ اس کے بعد ابواسامہ کی بیان کردہ حدیث کی طرح روایت کی، لیکن آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ کے اترنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 509]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کوہِ صفا پر چڑھے اور فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» ابو اسامہ رحمہ اللہ کی طرح روایت بیان کی۔ لیکن آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» کے اترنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 509]
ترقیم فوادعبدالباقی: 208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (507)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية محمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى | ثقة حافظ | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 509 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 509
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالاصحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیرکسی کی،
حتی کہ اپنے انتہائی عزیز رشتہ داروں کی بھی سفارش نہیں کریں گے،
اورقرآن مجیدمیں صراحتاً فرمایا گیاہے:
﴿يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلً﴾ (سورة طه: 109)
”اس دن شفاعت کسی کونفع نہ دےگی،
مگر اس شخص کو جس کےحق میں رحمان نے اجازت دے دی،
اوراس کےحق میں بولنا پسند فرما لیا۔
“ آیت الکرسی میں فرمایا:
﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾ ”کون ایسا ہے جواس کےسامنے اس کی اجازت کے بغیرسفارش کرسکے۔
“ ان صریح احادیث وآیات کے باوجود یہ کہنا:
”کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت کا مالک ومختار بنا دیا ہے“کس قدرجسارت ہے،
اورساتھ ہی یہ ماننا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت اوراس کے بتائے بغیر شفاعت کے مالک ومختارنہیں ہیں۔
جس کو اجازت لینے اور اطلاع دینے کی ضرورت ہو اس کو مالک ومختار کہا جائے گا،
جوکسی چیز کا مالک اورمختارہوتا ہے،
اسے اس کے بارےمیں کسی سے اجازت لینےکی ضرورت نہیں ہوتی۔
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالاصحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیرکسی کی،
حتی کہ اپنے انتہائی عزیز رشتہ داروں کی بھی سفارش نہیں کریں گے،
اورقرآن مجیدمیں صراحتاً فرمایا گیاہے:
﴿يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلً﴾ (سورة طه: 109)
”اس دن شفاعت کسی کونفع نہ دےگی،
مگر اس شخص کو جس کےحق میں رحمان نے اجازت دے دی،
اوراس کےحق میں بولنا پسند فرما لیا۔
“ آیت الکرسی میں فرمایا:
﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾ ”کون ایسا ہے جواس کےسامنے اس کی اجازت کے بغیرسفارش کرسکے۔
“ ان صریح احادیث وآیات کے باوجود یہ کہنا:
”کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت کا مالک ومختار بنا دیا ہے“کس قدرجسارت ہے،
اورساتھ ہی یہ ماننا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت اوراس کے بتائے بغیر شفاعت کے مالک ومختارنہیں ہیں۔
جس کو اجازت لینے اور اطلاع دینے کی ضرورت ہو اس کو مالک ومختار کہا جائے گا،
جوکسی چیز کا مالک اورمختارہوتا ہے،
اسے اس کے بارےمیں کسی سے اجازت لینےکی ضرورت نہیں ہوتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 509]
Sahih Muslim Hadith 509 in Urdu
محمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش