🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب في قوله تعالى: {وانذر عشيرتك الاقربين}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 208 ترقیم شاملہ: -- 508
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَهَتَفَ: يَا صَبَاحَاهْ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ، أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ كَذَا، قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ،
ابواسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا: وائے اس کی صبح (کی تباہی!) سب ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: ’یہ کون پکار رہا ہے؟‘ (کچھ) لوگوں نے کہا: ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘ چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد! یہ لوگ آپ کے قریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ’ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات (سننے) کا تجربہ نہیں ہوا۔‘ آپ نے فرمایا: تو میں تمہیں آنے والے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تو ابولہب کہنے لگا: ’تمہارے لیے تباہی ہو، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟‘ پھر وہ اٹھ گیا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا۔ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 508]
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ جب یہ آیت اتری: اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔ اور ان میں سے خاص کر اپنے خاندان کے سچے اور مخلص لوگوں کو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر صفا پہاڑ پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» دفاع کے لیے تیار ہو جاؤ! لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: یہ کون آواز دے رہا ہے؟ جواب ملا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد! یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: بتاؤ! اگر میں تمھیں اطلاع دوں، کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہم نے تمھیں کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمھیں سخت عذاب (کی آمد) سے پہلے ڈرا رہا ہوں۔ تو ابو لہب نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ! کیا تو نے ہمیں اس خاطر جمع کیا تھا؟ پھر وہ کھڑا ہو گیا، تو اس پر یہ سورت اتری! «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ» ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے۔ یقیناً وہ خود ہلاک ہوا۔ (سورۂ لہب) اعمش رحمہ اللہ نے پوری سورت قراءت کی اور «قَد تَبَّ» کے اضافے سے پڑھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 508]
ترقیم فوادعبدالباقی: 208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجنائز، باب: ذكر شرار الموتى برقم (1394) مختصراً - وفي المناقب، باب: من انتسب الى آبائه فى الاسلام والجاهلية برق (3526) وفي التفسير، باب: ﴿ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ﴾ برقم (4801) وفي، باب: ﴿ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ﴾ برقم (4971 و 4972 و 4973) والترمذى فى((جامعه)) في التفسير، باب: و من سورة ﴿ تَبَّتْ يَدَا ﴾ وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (3363) انظر ((التحفة)) برقم (5594)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ