علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
92. باب الدليل على ان من مات على الكفر لا ينفعه عمل:
باب: کفر کی حالت میں مرنے والے شخص کو اس کا کوئی عمل کام نہ آئے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 214 ترقیم شاملہ: -- 518
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ جُدْعَانَ، كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: لَا يَنْفَعُهُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! ابن جدعان جاہلیت کے دور میں صلہ رحمی کرتا تھا اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ عمل اس کے لیے فائدہ مند ہو گا؟‘ آپ نے فرمایا: ”یہ اسے فائدہ نہیں پہنچائیں گے، (کیونکہ) اس نے کسی ایک دن (بھی) یہ نہیں کہا: ’اے میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرما۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 518]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابنِ جدعان جاہلیت کے دور میں صلۂ رحمی کرتا تھا، اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ عمل اس کے لیے نافع ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نافع نہیں ہوں گے، کیونکہ اس نے کبھی (کسی ایک دن) بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرمانا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 518]
ترقیم فوادعبدالباقی: 214
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (17623)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 518 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 518
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کافر قیامت پر ایمان ویقین نہیں رکھتا،
اس لیے وہ قیامت کے اجر وثواب کے حصول کے لیے کوئی کام نہیں کرتا،
دنیوی نکتہ نظر سے کام کرتا ہے،
اس لیے اس کو نیک اعمال کا دنیا میں فائدہ پہنچتا ہے۔
لیکن چونکہ وہ اچھے اعمال کرتا ہے اور برے اعمال سے بچتا ہے،
اس لیے اس کا عذاب ان کافروں کے مقابلہ میں ہلکا ہوگا،
جو اچھے اعمال سے محروم ہوتے ہیں اور برے افعال کا ارتکاب کرتےہیں۔
جنت میں جانے کے لیے ایمان شرط ہے،
اور ایمان سے محروم کتنے بھی اچھے اعمال،
اچھے اخلاق اور حسن معاملہ سے متصف ہو اس کو ان اعمال سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا،
کہ وہ جنت میں چلا جائے۔
فوائد ومسائل:
کافر قیامت پر ایمان ویقین نہیں رکھتا،
اس لیے وہ قیامت کے اجر وثواب کے حصول کے لیے کوئی کام نہیں کرتا،
دنیوی نکتہ نظر سے کام کرتا ہے،
اس لیے اس کو نیک اعمال کا دنیا میں فائدہ پہنچتا ہے۔
لیکن چونکہ وہ اچھے اعمال کرتا ہے اور برے اعمال سے بچتا ہے،
اس لیے اس کا عذاب ان کافروں کے مقابلہ میں ہلکا ہوگا،
جو اچھے اعمال سے محروم ہوتے ہیں اور برے افعال کا ارتکاب کرتےہیں۔
جنت میں جانے کے لیے ایمان شرط ہے،
اور ایمان سے محروم کتنے بھی اچھے اعمال،
اچھے اخلاق اور حسن معاملہ سے متصف ہو اس کو ان اعمال سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا،
کہ وہ جنت میں چلا جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 518]
Sahih Muslim Hadith 518 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق