یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
93. باب موالاة المؤمنين ومقاطعة غيرهم والبراءة منهم:
باب: مومن سے دوستی رکھنے اور غیر مومن سے دوستی قطع کرنے اور ان سے جدا رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 215 ترقیم شاملہ: -- 519
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ، يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ آلَ أَبِي يَعْنِي فُلَانًا، لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ، وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ".
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے برسرعام یہ کہتے ہوئے سنا: ”یقیناً آل ابی، یعنی فلاں، میرے ولی نہیں، میرا ولی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے اور نیک مومن ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 519]
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپائے بغیر بلند آواز سے فرمایا: ”فلاں کی اولاد میری عزیز و دوست نہیں، میرا ساتھی اور دوست اللہ تعالیٰ اور نیک مسلمان ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 519]
ترقیم فوادعبدالباقی: 215
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الادب، باب: تبل الرحم ببلالها برقم (5990) انظر ((التحفة)) برقم (10744)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
519
| آل أبي يعني فلانا ليسوا لي بأولياء إنما وليي الله وصالح المؤمنين |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 519 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 519
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
"وَلِيٌّ" کا معنی:
ہمدم،
رفیق،
دوست،
حمایتی اور معاو ن وناصر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا،
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عزیز،
رفیق اور معاون وناصر اور رشتہ دار وہی ہے،
جو ایمان ہونے کے ساتھ آپ کے دین پر عمل پیرا ہے اور نیک ہے،
اگرچہ اس کا آپ سے نسبی تعلق نہیں ہے۔
اور جو ایماندار اور نیک نہیں ہے،
وہ آپ کا عزیز،
رفیق یا رشتہ دار نہیں ہے،
اگر چہ نسب کے اعتبار سے آپ کاقریبی ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت نوحؑ کے بیٹے کے بارے میں جو کافر تھا،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ (ھود: 46)
”وہ تیرے خاندان کا فرد نہیں ہے،
اس کی سفارش ایسا عمل ہے جو اچھا نہیں ہے۔
“ اور ایسے شخص سے آپ نے کھلم کھلا بیزاری کا اظہار فرمایا ہے،
اور ایک مسلمان کے لیے بھی یہی طرز عمل زیبا ہے،
کہ وہ کافروں اور فاسقوں سے محبت ومودت کا تعلق نہ رکھے،
اگرچہ وہ اس کے قریبی ہی کیوں نہ ہو۔
اسی عموم کے لحاظ سے راوی نے اس شخص کا نام نہیں لیا،
تاکہ اس کی مسلمان اورنیک اولاد کو اس سے اذیت نہ پہنچے،
یا اس سے غلط مطلب نہ اخذ کر لیا جائے،
اس لیے اس کو خواہ مخواہ متعین نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن اس حدیث سے اپنے غلط مفروضہ پر بد مذہب اور گمراہ فرقہ کی آڑ میں مسلمانوں کے جلسہ اور مجالس میں حاضری سے روکنا،
اپنی بھیڑوں کو قابو رکھنے کا ایک حیلہ تو ہو سکتا ہے،
حدیث کا تقاضا اور مطلب نہیں۔
فوائد ومسائل:
"وَلِيٌّ" کا معنی:
ہمدم،
رفیق،
دوست،
حمایتی اور معاو ن وناصر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا،
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عزیز،
رفیق اور معاون وناصر اور رشتہ دار وہی ہے،
جو ایمان ہونے کے ساتھ آپ کے دین پر عمل پیرا ہے اور نیک ہے،
اگرچہ اس کا آپ سے نسبی تعلق نہیں ہے۔
اور جو ایماندار اور نیک نہیں ہے،
وہ آپ کا عزیز،
رفیق یا رشتہ دار نہیں ہے،
اگر چہ نسب کے اعتبار سے آپ کاقریبی ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت نوحؑ کے بیٹے کے بارے میں جو کافر تھا،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ (ھود: 46)
”وہ تیرے خاندان کا فرد نہیں ہے،
اس کی سفارش ایسا عمل ہے جو اچھا نہیں ہے۔
“ اور ایسے شخص سے آپ نے کھلم کھلا بیزاری کا اظہار فرمایا ہے،
اور ایک مسلمان کے لیے بھی یہی طرز عمل زیبا ہے،
کہ وہ کافروں اور فاسقوں سے محبت ومودت کا تعلق نہ رکھے،
اگرچہ وہ اس کے قریبی ہی کیوں نہ ہو۔
اسی عموم کے لحاظ سے راوی نے اس شخص کا نام نہیں لیا،
تاکہ اس کی مسلمان اورنیک اولاد کو اس سے اذیت نہ پہنچے،
یا اس سے غلط مطلب نہ اخذ کر لیا جائے،
اس لیے اس کو خواہ مخواہ متعین نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن اس حدیث سے اپنے غلط مفروضہ پر بد مذہب اور گمراہ فرقہ کی آڑ میں مسلمانوں کے جلسہ اور مجالس میں حاضری سے روکنا،
اپنی بھیڑوں کو قابو رکھنے کا ایک حیلہ تو ہو سکتا ہے،
حدیث کا تقاضا اور مطلب نہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 519]
Sahih Muslim Hadith 519 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← عمرو بن العاص القرشي