صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3ق. باب تحريم لبس الحرير وغير ذٰلك للرجال
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2072 ترقیم شاملہ: -- 5424
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سُندس (باریک ریشم) کا ایک جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے حالانکہ آپ نے اس کے متعلق (پہلے) جو فرمایا تھا وہ فرما چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5424]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سندس کا ایک جبہ بھیجا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا، آپ نے یہ مجھے بھیجا ہے، حالانکہ آپ اس کے بارے میں جو فرما چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو، میں نے تو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5424]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2072
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن عبد الله الأصم ← أنس بن مالك الأنصاري