یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب تحريم خاتم الذهب علي الرجال ، ونسخ ما كان من إباحته في اول الإسلام
باب: سونے کی انگوٹھی مرد کو حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2090 ترقیم شاملہ: -- 5472
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ، وَقَالَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ "، فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُذْ خَاتِمَكَ انْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ (کی انگلی) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھاتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا: اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کوئی فائدہ اٹھا لو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5472]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک آگ کے انگارہ کا رخ کرتا ہے، پھر اسے اپنی انگلی میں ڈال لیتا ہے۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو اس آدمی سے کہا گیا، اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور اس کو بیچ کر فائدہ اٹھا لو، اس نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پھینک چکے ہیں، میں اس کو کبھی نہیں لوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5472]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2090
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5472 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5472
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے صحابہ کرام کا جذبہ امتثال فرماں برداری ثابت ہوتا ہے اور اگرچہ آپ کا مقصد مبالغہ کے ساتھ اس کو پہننے سے روکنا تھا،
اس سے فائدہ اٹھانے سے روکنا نہیں تھا،
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی چیز سے،
اس نے فائدہ اٹھانا بھی گوارا نہ کیا اور یہی چیز ان کی کامیابی اور کامرانی کا راز ہے،
جس سے آج ہم محروم ہیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے صحابہ کرام کا جذبہ امتثال فرماں برداری ثابت ہوتا ہے اور اگرچہ آپ کا مقصد مبالغہ کے ساتھ اس کو پہننے سے روکنا تھا،
اس سے فائدہ اٹھانے سے روکنا نہیں تھا،
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی چیز سے،
اس نے فائدہ اٹھانا بھی گوارا نہ کیا اور یہی چیز ان کی کامیابی اور کامرانی کا راز ہے،
جس سے آج ہم محروم ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5472]
Sahih Muslim Hadith 5472 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي