یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب استحباب لبس النعال وما في معناها
باب: جوتا پہننے کے مستحب ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2096 ترقیم شاملہ: -- 5494
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا: " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے ایک غزوے کے دوران میں، جو ہم نے لڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کثرت سے (اکثر اوقات) جوتے پہنا کرو، کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہن کر رکھتا ہے سوار ہوتا ہے۔ (اس کے پاؤں اسی طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح سوار کے اور وہ سوار ہی کی طرح تیزی سے چل سکتا ہے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5494]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں جو ہم نے کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے سنا ”جوتے خوب استعمال کرو، بکثرت پہنو، کیونکہ انسان جب تک جوتا پہنے گا، سوار ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5494]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2096
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5494
| استكثروا من النعال فإن الرجل لا يزال راكبا ما انتعل |
سنن أبي داود |
4133
| أكثروا من النعال فإن الرجل لا يزال راكبا ما انتعل |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5494 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5494
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جو شخص جوتا پہنتا ہے،
وہ مشقت اور تکان کے کم ہونے اور پاؤں کے محفوظ ہونے میں سوار کے مشابہہ ہے،
کیونکہ اس کے پاؤں،
راستہ میں کانٹے،
پتھر وغیرہ،
تکلیف دہ اشیاء سے محفوظ رہتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
جو شخص جوتا پہنتا ہے،
وہ مشقت اور تکان کے کم ہونے اور پاؤں کے محفوظ ہونے میں سوار کے مشابہہ ہے،
کیونکہ اس کے پاؤں،
راستہ میں کانٹے،
پتھر وغیرہ،
تکلیف دہ اشیاء سے محفوظ رہتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5494]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4133
جوتا پہننے کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا: ”جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے (یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4133]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا: ”جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے (یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4133]
فوائد ومسائل:
امام نووی فرماتے ہیں کہ سفر میں بالخصوص جوتا عمدہ نمایاں ہونا چاہیے۔
امام نووی فرماتے ہیں کہ سفر میں بالخصوص جوتا عمدہ نمایاں ہونا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4133]
Sahih Muslim Hadith 5494 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري