صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب استحباب لبس النعل في اليمنٰي اولا ، والخلع من اليسرٰي اولٓا ، وكراهة المشي في نعل واحدة
باب: پہلے داہنا جوتا پہننے اور پہلے بایاں اتارے اور صرف ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2098 ترقیم شاملہ: -- 5498
وحدثينيه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى.
علی بن مسہر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابورزین اور ابوصالح سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5498]
امام صاحب ایک اور استاد سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5498]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2098
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5498 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5498
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے تمام صحابہ کرام سے زیادہ روایات منقول ہیں،
اس لیے بعض لوگ اس پر حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام کے مقابلہ میں ان کی روایات کیوں اتنی زیادہ ہیں اور یہ اس کثرت سے روایات کیوں بیان کرتے ہیں،
ایک جوتا پہن کر چلنے میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،
حضرت علی،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم ان کے مخالف تھے،
اس لیے انہوں نے فرمایا،
تم یہ سمجھتے ہو،
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا ہے۔
۔
۔
باقی رہا بعض صحابہ کرام کا ایک جوتا پہن کر چلنا تو انہیں یا تو یہ حدیث پہنچی نہ تھی یا وہ اس کو آداب و اخلاق کی چیز سمجھتے تھے،
فقہی اور قانونی طور پر ممنوع نہیں سمجھتے تھے،
یعنی نہی تنزیہی قرار دیتے تھے اور تھوڑی دیر تک جہاں کوئی خطرہ نہ ہو ایک جوتے میں چل لیتے تھے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے تمام صحابہ کرام سے زیادہ روایات منقول ہیں،
اس لیے بعض لوگ اس پر حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام کے مقابلہ میں ان کی روایات کیوں اتنی زیادہ ہیں اور یہ اس کثرت سے روایات کیوں بیان کرتے ہیں،
ایک جوتا پہن کر چلنے میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،
حضرت علی،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم ان کے مخالف تھے،
اس لیے انہوں نے فرمایا،
تم یہ سمجھتے ہو،
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا ہے۔
۔
۔
باقی رہا بعض صحابہ کرام کا ایک جوتا پہن کر چلنا تو انہیں یا تو یہ حدیث پہنچی نہ تھی یا وہ اس کو آداب و اخلاق کی چیز سمجھتے تھے،
فقہی اور قانونی طور پر ممنوع نہیں سمجھتے تھے،
یعنی نہی تنزیہی قرار دیتے تھے اور تھوڑی دیر تک جہاں کوئی خطرہ نہ ہو ایک جوتے میں چل لیتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5498]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي