علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والنامصة والمتنمصة والمتفلجات والمغيرات خلق الله:
باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2127 ترقیم شاملہ: -- 5581
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا: أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ ، قال: ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْءٍ، " وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ "، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَلَا وَهَذَا الزُّورُ، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ.
قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں نے ایک بری ہیت نکال لی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، پھر ایک شخص عصا لیے ہوئے آیا جس کے سرے پر کپڑے کی ایک دھجی (لیر) تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سنو! یہ جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد وہ دھجیاں (لیریں) ہیں جن کے ذریعے سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5581]
حضرت سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، تم نے بری ہئیت و شکل ایجاد کر لی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے اور ایک آدمی لاٹھی لے کر آیا، جس کے سرے پر ایک چیتھڑا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، خبردار، یہی جھوٹ ہے، قتادہ کہتے ہیں، یعنی جن چیتھڑوں سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5581]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله معاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن هشام الدستوائي | ثقة ثبت | |
👤←👥مالك بن عبد الواحد المسمعي، أبو غسان مالك بن عبد الواحد المسمعي ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5581 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5581
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے قول سے معلوم ہوتا ہے،
ان کے نزدیک کسی مصنوعی طریقہ سے بالوں کی تکثیر یا اضافہ جعل سازی اور دھوکہ و فریب ہے،
اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے،
ہر وہ مصنوعی وگ،
جس سے اصلی بالوں کا اشتباہ پڑتا ہے اور وہ بال ہی محسوس ہوتی ہے،
وہ ناجائز ہے،
لیکن وہ بالوں سے ممتاز ہو اور اس سے بالوں میں اضافہ نہ ہوتا ہو،
جیسے عورتوں کا پراندہ،
تو یہ جائز ہے،
کیونکہ اس میں تدلیس و تلبیس یا جعل سازی نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے قول سے معلوم ہوتا ہے،
ان کے نزدیک کسی مصنوعی طریقہ سے بالوں کی تکثیر یا اضافہ جعل سازی اور دھوکہ و فریب ہے،
اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے،
ہر وہ مصنوعی وگ،
جس سے اصلی بالوں کا اشتباہ پڑتا ہے اور وہ بال ہی محسوس ہوتی ہے،
وہ ناجائز ہے،
لیکن وہ بالوں سے ممتاز ہو اور اس سے بالوں میں اضافہ نہ ہوتا ہو،
جیسے عورتوں کا پراندہ،
تو یہ جائز ہے،
کیونکہ اس میں تدلیس و تلبیس یا جعل سازی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5581]
Sahih Muslim Hadith 5581 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي