صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته وحمله إلى صالح يحنكه وجواز تسميته يوم ولادته واستحباب التسمية بعبد الله وإبراهيم وسائر اسماء الانبياء عليهم السلام:
باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2144 ترقیم شاملہ: -- 5612
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ، فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب عبداللہ بن ابی طلحہ پیدا ہوئے تو میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دھاری دار عبا (چادر) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو (خارش سے نجات دلانے کے لیے) گندھک (یا کول تار) لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ کھجور ساتھ ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا، انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے نے زبان ہلا کر اس کا ذائقہ لینا شروع کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5612]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کو جب وہ پیدا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر میں اپنے اونٹ کو گندھک مل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کھجوریں ہیں؟“ میں نے کہا، جی ہاں تو میں نے آپ کو چند خشک کھجوریں پکڑائیں اور آپ نے انہیں منہ میں ڈال لیا اور انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھولا اور انہیں اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ انہیں چوسنے لگا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کی محبوب چیز کھجوریں ہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5612]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عبد الأعلى بن حماد الباهلي، أبو يحيى عبد الأعلى بن حماد الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5612 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5612
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يهنا:
هناءگندھک سے ماخوذ ہے کہ آپ اونٹ کو بذات خود گندھک مل رہے تھے،
جس سے معلوم ہوا،
امام کو صدقہ وزکاۃ کے اموال کا بذات خود خیال رکھنا چاہیے اور ضرورت کے تحت حیوان کو گندھک ملنا جو اس کے لیے تکلیف کا باعث ہے،
درست ہے۔
(2)
لاكهن:
لوك کا معنی ہے،
سخت چیز کو چبانا،
یعنی آپ نے بچہ کے منہ میں ڈالنے کے لیے کھجوریں نرم کیں۔
(3)
فغر:
کھولا،
تاکہ اس میں چبائی ہوئی کھجوریں ڈالی جا سکیں۔
(4)
يتلمظ:
زبان کو منہ میں پھیرنے لگا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
بچہ کی پیدائش کے وقت کسی نیک شخص سے اس کو گھٹی دلوانا چاہیے اور اگر گھٹی کھجوروں کی دی جائے تو بہتر ہے،
اس پر علماء کا اتفاق ہے اور کسی صالح شخص سے نام رکھوانا بہتر ہے اور عبداللہ بہترین نام ہے اور نام پیدائش کے دن میں رکھا جا سکتا ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
يهنا:
هناءگندھک سے ماخوذ ہے کہ آپ اونٹ کو بذات خود گندھک مل رہے تھے،
جس سے معلوم ہوا،
امام کو صدقہ وزکاۃ کے اموال کا بذات خود خیال رکھنا چاہیے اور ضرورت کے تحت حیوان کو گندھک ملنا جو اس کے لیے تکلیف کا باعث ہے،
درست ہے۔
(2)
لاكهن:
لوك کا معنی ہے،
سخت چیز کو چبانا،
یعنی آپ نے بچہ کے منہ میں ڈالنے کے لیے کھجوریں نرم کیں۔
(3)
فغر:
کھولا،
تاکہ اس میں چبائی ہوئی کھجوریں ڈالی جا سکیں۔
(4)
يتلمظ:
زبان کو منہ میں پھیرنے لگا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
بچہ کی پیدائش کے وقت کسی نیک شخص سے اس کو گھٹی دلوانا چاہیے اور اگر گھٹی کھجوروں کی دی جائے تو بہتر ہے،
اس پر علماء کا اتفاق ہے اور کسی صالح شخص سے نام رکھوانا بہتر ہے اور عبداللہ بہترین نام ہے اور نام پیدائش کے دن میں رکھا جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5612]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري