صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب النهي عن ابتداء اهل الكتاب بالسلام وكيف يرد عليهم:
باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2166 ترقیم شاملہ: -- 5660
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ".
ابوزبیر نے کہا: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہا «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو! اس پر آپ نے فرمایا: ”تم پر ہو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا، جو انہوں نے کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہے اور ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوتی ہے اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5660]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، کچھ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، السّام عليك، [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5660]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2166
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري