صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب تحريم إقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إليه:
باب: کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2178 ترقیم شاملہ: -- 5688
وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن النبي، قَالَ: " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ لَيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ، وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے بھائی کو کھڑا نہ کرے کہ پھر دوسری طرف سے آ کر اس کی جگہ پر خود بیٹھ جائے، بلکہ (جو آئے وہ) کہے ’جگہ کشادہ کر دو۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5688]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی جمعہ کے دن اپنے بھائی کو ہرگز نہ اٹھائے کہ پھر جا کر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے، بلکہ یوں کہے، ”دوسروں کے لیے کھل جاؤ، گنجائش پیدا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5688]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5688 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5688
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عام طور پر کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا جمعہ کے دن ہوتا ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشاندہی خصوصی طور پر فرمائی،
وگرنہ عام ہے،
کسی دن کے ساتھ یا کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
عام طور پر کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا جمعہ کے دن ہوتا ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشاندہی خصوصی طور پر فرمائی،
وگرنہ عام ہے،
کسی دن کے ساتھ یا کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5688]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري