الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب السحر:
باب: جادو کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2189 ترقیم شاملہ: -- 5704
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ: فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، وَقَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْرِجْهُ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ.
ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی، کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔ اس کے بعد ابوکریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں کی طرف تشریف لے گئے، اسے دیکھا، اس کنوئیں پر کھجور کے درخت تھے (جنہیں کسی زمانے میں کنوئیں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہوگا) انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اسے نکالیں (اور جلا دیں) ابوکریب نے: ”آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟“ کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ (بھی) بیان نہیں کیے: ”میں نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5704]
امام صاحب کے استاد ابو کریب مذکورہ بالا روایت سناتے ہیں اور اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف نکلے، اسے دیکھا، اس پر کھجوروں کے درخت تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے نکلوائیے، اس میں یہ نہیں ہے کہ ”آپ نے اسے جلایا کیوں نہیں؟“ اور نہ یہ ہے، ”میرے حکم سے اس کو دفن کر دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5704]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق