🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6ق. باب الكشف عن معايب رواة الحديث ونقلة الاخبار وقول الائمة في ذلك ‏‏
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 58
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَبْرَحَ الأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ سورة يوسف آية 80، فَقَالَ جَابِرٌ: لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَذَبَ.فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ: وَمَا أَرَادَ بِهَذَا، فَقَالَ: إِنَّ الرَّافِضَةَ، تَقُولُ: إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ، فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ، حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ، يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي، اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ. يَقُولُ جَابِرٌ: فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الآيَةِ، وَكَذَبَ، كَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ"
سفیان (بن عیینہ) نے کہا: میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے جابر سے ارشاد ربانی: ﴿فلن أبرح الأرض حتی یأذن لی أبی أو یحکم اللہ لی وہو خیر الحاکمین﴾ اب میں اس زمین سے ہرگز نہ ہلوں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا اللہ میرے لیے فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ کے بارے میں سوال کیا، تو جابر نے کہا: اس کی تفسیر ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ سفیان نے کہا: اور اس نے یہ جھوٹ بولا۔ تو ہم نے سفیان سے کہا: اس سے مراد اس کی کیا تھی؟ انہوں نے کہا: روافض کہتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ بادلوں میں ہیں۔ ان کی اولاد میں سے جو کوئی خروج کرے گا ہم اس کے ساتھ خروج نہیں کریں گے حتیٰ کہ آسمان کی طرف سے پکارنے والا (اس کی مراد علی سے ہے) پکارے۔ یقیناً وہی پکارے گا کہ فلاں کے ساتھ (مل کر) خروج کرو۔ جابر کہتا تھا: یہ اس آیت کی تفسیر ہے اور اس نے جھوٹ کہا۔ یہ آیت حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں (نازل ہوئی) تھی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 58]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے جابر سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي ۖ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 80] کا معنی پوچھا: میں تو اس سر زمین سے کبھی نہ جاؤں گا حتیٰ کہ میرا باپ مجھے اجازت دے، یا اللہ میرے حق میں فیصلہ فرما دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو جابر نے کہا: اس کی حقیقت یا اس کا مصداق ابھی تک ظاہر نہیں ہوا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس نے جھوٹ بولا ہے (کیونکہ اس واقعہ کا تعلق تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی کے ساتھ ہے) ہم نے سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کہنے سے اس کا مقصد کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رافضیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بادل میں ہیں، ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ نہیں نکلیں گے، یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی کرنے والا آواز دے گا، یعنی: حضرت علی رضی اللہ عنہ آواز دیں گے: فلاں کے ساتھ نکلو (اس کے ساتھ ہم نکلیں گے)۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس آیت کی حقیقت یا مصداق یہی ہے، اور اس نے جھوٹ بولا ہے، یہ آیت تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں ہے (یہ بات ان کے بڑے بھائی نے کہی تھی، جس کی تفصیل اور پس منظر قرآن مجید میں موجود ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 58]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18774)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


Sahih Muslim Hadith 58 in Urdu