🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ ‏‏
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 33
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ صَاحِبُ بُهَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، فَقَالَ يَحْيَى لِلْقَاسِمِ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّهُ قَبِيحٌ عَلَى مِثْلِكَ عَظِيمٌ، أَنْ تُسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ هَذَا الدِّينِ، فَلَا يُوجَدَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ، وَلَا فَرَجٌ أَوْ عِلْمٌ، وَلَا مَخْرَجٌ، فَقَالَ لَهُ الْقَاسِمُ: وَعَمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: لِأَنَّكَ ابْنُ إِمَامَيْ هُدًى ابْنُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَر قَالَ: يَقُولُ لَهُ الْقَاسِمُ: أَقْبَحُ مِنْ ذَاكَ عِنْدَ مَنْ عَقَلَ، عَنِ اللَّهِ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ آخُذَ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ، قَالَ: فَسَكَتَ فَمَا أَجَابَهُ
ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے بہیہ کے مولیٰ ابوعقیل (یحییٰ بن متوکل) نے حدیث بیان کی، کہا: میں قاسم بن عبیداللہ (بن عبداللہ بن عمر جن کی والدہ ام عبداللہ بنت قاسم بن محمد بن ابوبکر تھیں) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبیداللہ سے کہا: جناب ابومحمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں (کچھ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا (یہ الفاظ کہے) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ۔ تو قاسم نے ان سے کہا: کس وجہ سے؟ (یحییٰ نے) کہا: کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے فرزند ہیں۔ کہا: قاسم اس سے کہنے لگے: جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو، اس کے نزدیک اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو۔ (یہ سن کر یحییٰ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 33]
ابو عقیل رحمہ اللہ جو بہیہ نامی عورت کے شاگرد ہیں بیان کرتے ہیں: کہ میں قاسم بن عبید اللہ رحمہ اللہ اور یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو یحییٰ رحمہ اللہ نے قاسم رحمہ اللہ سے کہا: اے ابو محمد! آپ جیسے بلند شان انسان کے لیے انتہائی بری بات ہے کہ تم سے اس دین کے کسی مسئلہ (معاملہ) کے بارے میں دریافت کیا جائے اور آپ کے پاس اس کے بارے میں معلومات موجود نہ ہوں، اور آپ اس کو حل نہ کر سکیں، یا اس کے بارے میں علم اور نکلنے کی راہ نہ ہو۔ قاسم رحمہ اللہ نے یحییٰ رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کیوں؟ اس نے کہا: کیونکہ آپ ہدایت و رہنمائی کے دو ائمہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ قاسم رحمہ اللہ جواب دیتے ہیں: جو اللہ کے دین کی عقل و دانش رکھتا ہے، اس کے نزدیک اس سے زیادہ قبیح اور بری بات یہ ہے، کہ میں بلا سند و حجت (بلا علم) بات کہوں (جواب دوں) یا غیر ثقہ ناقابل اعتبار آدمی سے روایت لوں۔ تو یحییٰ رحمہ اللہ خاموش ہو گئے اور کچھ جواب نہ دے سکے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 33]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18487 و 18924 و 18925)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 34
وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: أَخْبَرُونِي، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ صَاحِبِ بُهَيَّةَ، أَنَّ أَبْنَاءً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، سَأَلُوهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهِ عِلْمٌ، فَقَالَ لَهُ يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ يَكُونَ مِثْلُكَ وَأَنْتَ ابْنُ إِمَامَيِ الْهُدَى يَعْنِي عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ، تُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَكَ فِيهِ عِلْمٌ، فَقَالَ: أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَاللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ، وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنِ اللَّهِ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، أَوْ أُخْبِرَ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ، قَالَ: وَشَهِدَهُمَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حِينَ قَالَا ذَلِك
بشر بن حکم عبدی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے بہت سے لوگوں نے بہیہ کے مولیٰ ابوعقیل سے (سن کر) روایت کی کہ (کچھ) لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کے بارے میں ان کے علم میں کچھ نہ تھا تو یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا: میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے (جبکہ آپ ہدایت کے دو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں، کوئی بات پوچھی جائے (اور) اس کے بارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو۔ انہوں نے کہا: بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں۔ (سفیان نے) کہا: ابوعقیل یحییٰ بن متوکل (بھی) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 34]
بہیہ نامی عورت کے شاگرد اور غلام ابو عقیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے (پوتے) سے ایک ایسا مسئلہ دریافت کیا، جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے تھے، تو انہیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو انتہائی ناگوار سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے مرتبہ کا مالک، جو ہدایت کے دو راہنماؤں کا، یعنی: عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیٹا ہے، اس سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے اور وہ اس کے بارے میں علم نہ رکھتے ہوں۔ تو انہوں نے جواب دیا: اس سے زیادہ ناگوار اور گراں اللہ کے ہاں اور ان لوگوں کے ہاں جو اللہ کے بارے میں عقل و شعور رکھتے ہیں، اللہ کی قسم! یہ بات ہے، کہ میں علم (دلیل و سند) کے بغیر بات کہہ دوں (رائے پیش کر دوں) یا ناقابل اعتبار روایت سے پیش کر دوں۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان دونوں (یحییٰ رحمہ اللہ اور قاسم رحمہ اللہ) کی گفتگو کے وقت ابو عقیل یحییٰ بن متوکّل رحمہ اللہ موجود تھا۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 34]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19201 و 19533)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 35
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَشُعْبَةَ، وَمَالِكًا، وَابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنِ الرَّجُلِ، لَا يَكُونُ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ، فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالُوا: أَخْبِرْ عَنْهُ، أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ
یحییٰ بن سعید نے کہا: میں نے سفیان ثوری، شعبہ، مالک اور ابن عیینہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو حدیث میں پوری طرح قابل اعتماد (ثقہ) نہ ہو، پھر کوئی آدمی آئے اور مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے؟ تو ان سب نے کہا: اس کے بارے میں بتا دو کہ وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 35]
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ اور ابن عیینہ رحمہ اللہ (ائمہ دین اور ائمہ جرح و تعدیل) سے پوچھا: ایک آدمی حدیث میں معتبر اور ثقہ نہیں ہے، کوئی دوسرا آدمی میرے پاس آتا ہے اور اس کے بارے میں دریافت کرتا ہے (کہ یہ ثقہ اور معتبر ہے یا نہیں) سب نے کہا: اس کے بارے میں بتا دو کہ یہ ثقہ اور معتبر نہیں ہے۔ (کیونکہ اگر اس کی اصلیت اور حقیقت سے آگاہ نہیں کیا جائے گا، تو لوگ اس پر اعتماد کر کے اس کی غلط اور ضعیف روایات کو مان لیں گے اور وہ دین بن جائیں گی)۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 35]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18762 و 18775 و 18803 و 19248)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 36
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَدِيثٍ لِشَهْرٍ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ، فَقَالَ: إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ، إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ، قَالَ مٌسْلِمٌ: رَحِمَهُ اللَّهُ، يَقُولُ: أَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ تَكَلَّمُوا فِيهِ
نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر (بن حوشب) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا، (اس وقت) وہ (اپنی) دہلیز پر کھڑے تھے، وہ کہنے لگے: انہوں (محدثین) نے یقیناً شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا، ان کے بارے میں باتیں کیں۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 36]
نضر بن شمیل رحمہ اللہ کہتے ہیں، ابن عون رحمہ اللہ سے جب کہ وہ دروازے کی دہلیز پر کھڑے تھے شہر (راوی کا نام ہے) کی حدیثوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: شہر بن حوشب پر محدثین رحمہ اللہ نے جرح کی ہے، شہر پر لوگوں نے طعن کیا ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا مقصد ہے، لوگوں کی زبانوں نے اس پر گرفت کی ہے، اس کو جرح اور نقد کا نشانہ بنایا ہے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 36]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الاستئذان، باب ماجاء في التسليم علي النساء بعد حديث (2697) انظر ((التحفة)) (18921)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 37
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: قَال شُعْبَةُ: وَقَدْ لَقِيتُ شَهْرًا، فَلَمْ أَعْتَدَّ بِهِ
ہمیں شبابہ نے بتایا، کہا: شعبہ نے کہا: میں شہر سے ملا لیکن (روایت حدیث کے حوالے سے) میں نے انہیں اہمیت نہ دی۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 37]
امام شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شہر سے ملاقات کی، تو میں نے اسے قابل اعتماد نہیں سمجھا۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 37]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18804)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 38
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: إِنَّ عَبَّادَ بْنَ كَثِيرٍ، مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ، وَإِذَا حَدَّثَ، جَاءَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، فَتَرَى أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ؟ قَالَ سُفْيَانُ: بَلَى، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَكُنْتُ إِذَا كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ، ذُكِرَ فِيهِ عَبَّادٌ، أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ، وَأَقُولُ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: انْتَهَيْتُ إِلَى شُعْبَةَ، فَقَالَ: هَذَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ
عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں نے سفیان ثوری سے عرض کی: بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں: اس سے (حدیث) نہ لو؟ سفیان کہنے لگے: کیوں نہیں! عبداللہ نے کہا: پھر یہ (میرا معمول) ہو گیا کہ جب میں کسی (علمی) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور (ساتھ یہ بھی) کہتا: اس سے (حدیث) نہ لو۔ ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، کہا: میرے والد نے کہا: عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے (بھی) کہا: یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے (حدیث بیان کرنے میں) احتیاط کرو۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 38]
امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا: عباد بن کثیر کے حالات سے تو آپ آگاہ ہیں۔ وہ جب حدیث بیان کرتا ہے، تو انتہائی ناگوار یا سنگین حرکت کرتا ہے (غلط اور موضوع روایات بیان کرتا ہے) تو آپ کا کیا خیال ہے، میں لوگوں کو کہہ دوں: کہ اس سے روایت نہ لو؟ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ضرور کہو۔ عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب میں کسی ایسی مجلس میں ہوتا، جس میں عباد کا تذکرہ ہوتا، تو میں اس کی دیانت و امانت، زہد و تقویٰ کی تعریف کرتا اور کہہ دیتا: کہ اس سے روایت نہ لو۔ (کیونکہ روایت بیان کرنے میں قابل اعتماد نہیں، کمزور اور موضوع روایات بیان کر دیتا ہے) یہ بات دوسری سند سے بیان کی گئی ہے کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں شعبہ رحمہ اللہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: یہ عباد بن کثیر ہے، اس سے بچ کر رہو۔ (اس سے روایت نہ لو)۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 38]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18763 و 18805 و 18926)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 39
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُعَلًّى الرَّازِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ عَبَّادٌ، فَأَخْبَرَنِي، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، قَالَ: كُنْتُ عَلَى بَابِهِ، وَسُفْيَانُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَذَّابٌ
فضل بن سہل نے بتایا، کہا: میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں، جس سے عباد بن کثیر نے روایت کی، پوچھا تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے بیان کیا، کہا: میں اس کے دروازے پر تھا، سفیان اس کے پاس موجود تھے جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے ان (سفیان) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کذّاب ہے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 39]
فضل بن سہیل بیان کرتے ہیں: میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں پوچھا، جس سے عباد بن کثیر روایت بیان کرتا ہے، تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس سے نقل کیا۔ میں اس کے دروازے پر تھا اور سفیان اس کے پاس حاضر تھے، جب وہ نکلے تو میں نے ان سے (سفیان سے) اس (محمد بن سعید) کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: وہ جھوٹا ہے۔ (مولانا عبدالسلام بستوی نے اس سے مراد عباد بن کثیر لیا ہے، کہ وہ جھوٹا ہے)۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 39]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18764)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 40
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْءٍ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ: فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ عَنْ أَبِيهِ: لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِم: يَقُولُ: يَجْرِي الْكَذِبُ عَلَى لِسَانِهِمْ، وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْكَذِبَ
محمد بن ابی عتاب نے کہا: مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہم نے نیک لوگوں (صوفیا) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا۔ ابن ابی عتاب نے کہا: میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس (بات کے) بارے میں پوچھا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا: تم اہل خیر (زہد و ورع والوں) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا: ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 40]
امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے بعض نیک لوگوں کو حدیث میں سب باتوں سے زیادہ جھوٹ بولتے دیکھا ہے۔ ابن ابی عتاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کے بیٹے محمد رحمہ اللہ کو ملا اور ان سے اس قول کے بارے میں پوچھا، تو اس نے اپنے باپ سے نقل کیا: کہ ہم نے اہل خیر کو کسی چیز میں حدیث سے زیادہ جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔ یعنی: جتنا جھوٹ وہ حدیثوں کے بیان میں بولتے ہیں اتنا جھوٹ عام گفتگو میں نہیں بولتے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا مقصد یہ ہے، کہ جھوٹ ان کی زبانوں پر جاری ہو جاتا ہے (کیونکہ وہ بلا تحقیق اور تنقیح ہر ایک پر اعتماد کر لیتے ہیں) وہ قصداً (جان بوجھ کر) جھوٹ نہیں بولتے (کیونکہ عمداً جھوٹ بولنے والا صالح یا اہل خیر نہیں ہو سکتا)۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 40]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19527)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 41
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ، فَقَامَ، فَنَظَرْتُ فِي الْكُرَّاسَةِ، فَإِذَا فِيهَا، حَدَّثَنِي أَبَانٌ، عَنْ أَنَسٍ وَأَبَانٌ، عَنْ فُلَانٍ، فَتَرَكْتُهُ، وَقُمْتُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ عَفَّانَ، حَدِيثُ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز، قَالَ هِشَامٌ: حَدَّثَنِي جُلٌ، يُقَالُ لَهُ: يَحْيَي بْنُ فُلَانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ، كَانَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَي، عَنْ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ ادَّعَى بَعْدُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی، کہا: میں غالب بن عبیداللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا: مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا، میں نے (جو) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا: مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ (امام مسلم نے کہا:) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عفان کی کتاب میں ابومقدام ہشام کی (وہ) روایت دیکھی (جو عمر بن عبدالعزیز کی حدیث ہے) (اس میں تھا:) ہشام نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا، محمد بن کعب سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عفان سے کہا: (اہل علم) کہتے ہیں: ہشام نے یہ (حدیث) محمد بن کعب سے سنی تھی۔ تو وہ کہنے لگے: وہ (ہشام) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے۔ (پہلے) وہ کہا کرتے تھے: مجھے یحییٰ نے محمد (بن کعب) سے روایت کی، بعدازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ (حدیث براہ راست) محمد سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 41]
خلیفہ بن موسیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں غالب بن عبیداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو وہ مجھے حدیثیں املا کرانے (لکھوانے) لگے، کہ مجھے مکحول رحمہ اللہ نے بتایا، تو انہیں پیشاب آ گیا جس سے وہ اٹھ کھڑے ہوئے، سو میں نے ان کی کاپی (کاغذات) پر نظر دوڑائی تو اس میں لکھا تھا: مجھے ابان رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی اور ابان سے فلاں نے روایت کی، تو میں انہیں چھوڑ کر چلا آیا۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 41]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18616 و 19098)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 42
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَوْمُ الْفِطْرِ، يَوْمُ الْجَوَائِزِ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ: انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِكَ مِنْهُ، قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ: وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ يَذْكُرُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ، قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي، أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ، كُرْهَ حَدِيثِه.
مجھے محمد بن عبداللہ قہزاذ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: یہ کون ہے جس سے آپ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث: عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔ روایت کی؟ کہا: سلیمان بن حجاج، ان میں سے جو (احادیث) تم نے اپنے پاس (لکھ) رکھی ہیں (یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں) ان میں (اچھی طرح) نظر کرنا (غور کر لینا)۔ ابن قہزاذ نے کہا: میں نے وہب بن زمعہ سے سنا، وہ سفیان بن عبدالملک سے روایت کر رہے تھے، کہا: عبداللہ، یعنی ابن مبارک نے کہا: میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 42]
عبداللہ بن عثمان بن جبلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ انسان کون ہے، جس سے آپ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں؟: عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔ انہوں نے کہا: وہ سلیمان بن حجاج ہے، دیکھو میں نے اس سے تیرے ہاتھ میں کیسی چیز رکھ دی ہے! (یعنی وہ ثقہ ہے، اور اس نے بہت عمدہ حدیث سنائی ہے۔) [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 42]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18927 و 18928)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں