صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب في سخائه صلى الله عليه وسلم
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2313 ترقیم شاملہ: -- 6022
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي، حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سو اونٹ پھر سو اونٹ۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فرمایا، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6022]
ابن شہاب بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح مکہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مسلمانوں ساتھیوں کے ساتھ نکلے اور حنین میں جنگ لڑی تو اللہ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی نصرت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن صفوان بن امیہ کو سو اونٹ دیے، پھر سو اونٹ دیئے، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے سعید بن المسیب نے بتایا، صفوان نے کہا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، جو بھی عطا فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام لوگوں سے زیادہ مبغوض تھے، سو آپ مجھے (اس کے باوجود) دیتے رہے حتی کہ آپ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2313
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صفوان بن أمية القرشي، أبو وهب، أبو أمية | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← صفوان بن أمية القرشي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← محمد بن شهاب الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر أحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6022 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6022
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صفوان بن امیہ جنگ حنین کے وقت مشرک تھا اور فتح مکہ کی بنا پر آپ کا شدید مخالف تھا،
لیکن آپ نے تالیف قلبی کرتے ہوئے،
اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں اس کو غنائم حنین سے اتنا کچھ دیا کہ وہ اسلام لانے پر مجبور ہو گیا،
کیونکہ وہ سمجھ گیا کہ یہ کام پیغمبر کے بغیر کوئی اور دنیوی لیڈر یا سردار نہیں کر سکتا۔
فوائد ومسائل:
صفوان بن امیہ جنگ حنین کے وقت مشرک تھا اور فتح مکہ کی بنا پر آپ کا شدید مخالف تھا،
لیکن آپ نے تالیف قلبی کرتے ہوئے،
اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں اس کو غنائم حنین سے اتنا کچھ دیا کہ وہ اسلام لانے پر مجبور ہو گیا،
کیونکہ وہ سمجھ گیا کہ یہ کام پیغمبر کے بغیر کوئی اور دنیوی لیڈر یا سردار نہیں کر سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6022]
سعيد بن المسيب القرشي ← صفوان بن أمية القرشي