صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب في سخائه صلى الله عليه وسلم
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2314 ترقیم شاملہ: -- 6024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ، فَلْيَأْتِنَا، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَة.
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز کہا: مجھے محمد بن منکدر نے (بھی) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی تھی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس (بحرین کے گورنر) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ (آگے) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6024]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے مال آیا تو ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ قرض ہو یا آپ نے اس سےوعدہ فرمایا ہو، وہ ہمارے پاس آ جائے، جیسا کہ ابن عیینہ کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6024]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6024 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6024
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
ایک حکمران کے معاہدے اور وعدے اس کی جگہ لینے والے حکمران کو پورے کرنے ہوں گے،
وہ یہ نہیں کہہ سکتا،
یہ معاہدے اور وعدے ہم نے تو نہیں کیے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
ایک حکمران کے معاہدے اور وعدے اس کی جگہ لینے والے حکمران کو پورے کرنے ہوں گے،
وہ یہ نہیں کہہ سکتا،
یہ معاہدے اور وعدے ہم نے تو نہیں کیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6024]
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري