صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب قربه صلى الله عليه وسلم من الناس ، وتبركهم به وتواضعه لهم
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے برتاؤ اور آپ کی تواضع۔
ترقیم عبدالباقی: 2324 ترقیم شاملہ: -- 6042
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وهارون بن عبد الله جميعا، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ، جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خادم (غلام) اپنے برتن لے آتے جن میں پانی ہوتا، جو بھی برتن آپ کے سامنے لایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک اس میں ڈبو دیتے، بسا اوقات سخت ٹھنڈی صبح میں برتن لائے جاتے تو آپ (پھر بھی) ان میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6042]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے، مدینہ کے نوکر چاکر، اپنے اپنے پانی کےبرتن لاتے تو جو برتن بھی لایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے، بسا اوقات وہ انتہائی ٹھنڈی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2324
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6042 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6042
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ مہر و محبت کا تعلق رکھتے اور زیردست لوگ بھی بلاتکلف آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور آپ کے دست مبارک کے لمس سے برکت حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے پانی کے برتن پیش کرتے اور آپ ان کی تمنا و آرزو کی تکمیل کی خاطر،
مشقت برداشت کرتے ہوئے سخت سردی کے موسم میں بھی ان کے برتنوں میں ہاتھ ڈال دیتے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ مہر و محبت کا تعلق رکھتے اور زیردست لوگ بھی بلاتکلف آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور آپ کے دست مبارک کے لمس سے برکت حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے پانی کے برتن پیش کرتے اور آپ ان کی تمنا و آرزو کی تکمیل کی خاطر،
مشقت برداشت کرتے ہوئے سخت سردی کے موسم میں بھی ان کے برتنوں میں ہاتھ ڈال دیتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6042]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري