صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب طيب عرق النبي صلى الله عليه وسلم والتبرك به:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کا خوشبودار اور متبرک ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2331 ترقیم شاملہ: -- 6056
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا، فَأُتِيَتْ، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَامَ فِي بَيْتِكِ، عَلَى فِرَاشِكِ، قَالَ: فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا، فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: أَصَبْتِ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر میں جاتے اور ان کے بچھونے پر سو رہے، اور وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچھونے پر سو رہے۔ لوگوں نے انہیں بلا کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بچھونے پر سو رہے ہیں، یہ سن کر وہ آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ چمڑے کے بچھونے پر جمع ہو گیا ہے۔ ام سلیم نے اپنا ڈبہ کھولا اور یہ پسینہ پونچھ پونچھ کر شیشوں میں بھرنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا:”اے ام سلیم! کیا کرتی ہے؟“انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنے بچوں کے لیے برکت کی امید رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم نے ٹھیک کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6056]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے، جبکہ وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور ان کے بستر پر سو گئے۔ ان کے پاس آ کر انہیں بتایا گیا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں، آپ کے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، وہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آ چکا تھا، بستر پر بچھے ہوئے ایک چمڑے کے ٹکڑے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ جمع ہو چکا تھا، انہوں نے اپنا صندوقچہ کھولا اور اس پسینے کو سمیٹ کر اپنی شیشی میں نچوڑنے لگیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور پوچھا: ”کیا کر رہی ہو؟ اے ام سلیم!“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اپنے بچوں کے لیے اس کی برکت کے امیدوار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے درست رائے قائم کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2331
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6056 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6056
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
استنقع:
جمع ہو گیا،
اکٹھا ہو گیا۔
(2)
عتيدة:
قیمتی سامان رکھنے کا چھوٹا سا صندوق،
صندوقچی۔
فوائد ومسائل:
حضرت ام سلیم اور حضرت ام حرام دونوں بہنیں رضاعی اعتبار سے آپ کی خالہ یا خالہ کے قائم مقام تھیں،
کیونکہ آپ کے باپ یا دادا کی رضاعی خالہ تھیں،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں،
ان کی غیر موجودگی میں بھی چلے جاتے اور وہاں قیلولہ کر لیتے تھے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کا پسینہ خوشبو اور تبرک کے لیے ایک شیشی میں ڈال لیا تھا،
اگر کسی بزرگ کی کسی چیز سے برکت حاصل کرنے کی امید رکھی جائے،
بشرطیکہ اس میں شرک و بدعت کا شائبہ نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے،
لیکن چونکہ یہ چیز آہستہ آہستہ شرک کا باعث بن سکتی ہے،
اس لیے صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی کسی چیز سے تبرک حاصل کرنے سے بچتے تھے۔
مفردات الحدیث:
(1)
استنقع:
جمع ہو گیا،
اکٹھا ہو گیا۔
(2)
عتيدة:
قیمتی سامان رکھنے کا چھوٹا سا صندوق،
صندوقچی۔
فوائد ومسائل:
حضرت ام سلیم اور حضرت ام حرام دونوں بہنیں رضاعی اعتبار سے آپ کی خالہ یا خالہ کے قائم مقام تھیں،
کیونکہ آپ کے باپ یا دادا کی رضاعی خالہ تھیں،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں،
ان کی غیر موجودگی میں بھی چلے جاتے اور وہاں قیلولہ کر لیتے تھے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کا پسینہ خوشبو اور تبرک کے لیے ایک شیشی میں ڈال لیا تھا،
اگر کسی بزرگ کی کسی چیز سے برکت حاصل کرنے کی امید رکھی جائے،
بشرطیکہ اس میں شرک و بدعت کا شائبہ نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے،
لیکن چونکہ یہ چیز آہستہ آہستہ شرک کا باعث بن سکتی ہے،
اس لیے صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی کسی چیز سے تبرک حاصل کرنے سے بچتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6056]
Sahih Muslim Hadith 6056 in Urdu
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري