🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب من فضائل عمر رضي الله تعالى عنه:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2393 ترقیم شاملہ: -- 6196
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا، أَوْ ذَنُوبَيْنِ، فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ، حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ ".
ابوبکر بن سالم نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے (خواب میں دیکھا) کہ جیسے میں ایک کنویں پر چرخی والے ڈول سے پانی نکال رہا ہوں، پھر ابوبکر آگئے، انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، انہوں نے کچھ کمزوری سے ڈول نکالے۔ پھر عمر آئے، انہوں نے پانی نکالا تو وہ بہت بڑا ڈول بن گیا، میں نے لوگوں میں کوئی غیر معمولی آدمی بھی ایسا نہیں دیکھا جو ان جیسی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہو یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے (جانوروں کو سیراب کر کے) آرام کرنے کی جگہ پہنچا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6196]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک کنویں پر چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے اور انہوں نے کمزوری کے ساتھ ڈول کھینچا، «يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ» اللہ تبارک و تعالیٰ اسے معاف فرمائے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے پانی نکالنا شروع کیا اور ڈول بہت بڑا ڈول بن گیا، میں نے کوئی ماہر اور عبقری انسان اس جیسا کام سرانجام دیتے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پانی پلا کر ان کی جگہوں پر بٹھا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2393
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥أبو بكر بن سالم العدوي، أبو بكر
Newأبو بكر بن سالم العدوي ← سالم بن عبد الله العدوي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← أبو بكر بن سالم العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بشر العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بشر العبدي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← محمد بن بشر العبدي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7019
بينا أنا على بئر أنزع منها إذ جاء أبو بكر وعمر فأخذ أبو بكر الدلو فنزع ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف فغفر الله له ثم أخذها عمر بن الخطاب من يد أبي بكر فاستحالت في يده غربا فلم أر عبقريا من الناس يفري فريه حتى ضرب الناس بعطن
صحيح البخاري
3676
بينما أنا على بئر أنزع منها جاءني أبو بكر وعمر فأخذ أبو بكر الدلو فنزع ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ثم أخذها ابن الخطاب من يد أبي بكر فاستحالت في يده غربا فلم أر عبقريا من الناس يفري فريه فنزع حتى ضرب الناس بعطن
صحيح البخاري
3682
أريت في المنام أني أنزع بدلو بكرة على قليب فجاء أبو بكر فنزع ذنوبا أو ذنوبين نزعا ضعيفا والله يغفر له ثم جاء عمر بن الخطاب فاستحالت غربا فلم أر عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن
صحيح البخاري
7020
رأيت الناس اجتمعوا فقام أبو بكر فنزع ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ثم قام ابن الخطاب فاستحالت غربا فما رأيت من الناس من يفري فريه حتى ضرب الناس بعطن
صحيح مسلم
6196
أريت كأني أنزع بدلو بكرة على قليب فجاء أبو بكر فنزع ذنوبا أو ذنوبين فنزع نزعا ضعيفا والله تبارك و يغفر له ثم جاء عمر فاستقى فاستحالت غربا فلم أر عبقريا من الناس يفري فريه حتى روي الناس وضربوا العطن
جامع الترمذي
2289
رأيت الناس اجتمعوا فنزع أبو بكر ذنوبا أو ذنوبين فيه ضعف والله يغفر له ثم قام عمر فنزع فاستحالت غربا فلم أر عبقريا يفري فريه حتى ضرب الناس بعطن
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6196 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6196
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
بدلو بكرة:
چرخی کا ڈول ہے۔
(2)
بكرة:
اس چرخی کو کہتے ہیں،
جس پر ڈول لٹکایا جاتا ہے اور اگر کاف پر سکون پڑھیں تو جوان اونٹ کو کہتے ہیں،
مراد ہو گا،
اونٹوں کو پانی پلانے کا ڈول۔
(3)
يفري فريه:
ان کی طرح کاٹتا،
کیونکہ فَري کا معنی ہوتا ہے،
اصلاح اور بہتری کی خاطر کاٹنا،
مراد ہے بہترین طور پر کام کرنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6196]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2289
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی (یعنی سب آسودہ ہو گئے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2289]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
اس سے مرادعمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی مضبوط خلافت وامارت کادورہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2289]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3682
3682. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں۔ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ آئے تو انھوں نے ایک یا دو ڈول پانی کے بھرے ہوئے کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر حضرت عمر ؓ آئےتو وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی شہ زوراور طاقتور آدمی نہیں دیکھا جس نے اتنی مہارت سےاپنا کام پورا کیا ہو، یہاں تک لوگ خود بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے ان کے ٹھکانوں میں باندھ دیا۔ ابن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ عَبْقَرِيٍّ عمدۃ قالین کو کہتے ہیں۔ حضرت یحییٰ کہتے ہیں کہ زَرَابِيُّ باریک کناروں والی چادروں کو کہاجاتا ہے۔ مَبْثُوثَةٌ کے معنی کثرت کے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3682]
حدیث حاشیہ:
یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب حدیث میں لفظ بکرة بفتح با اور کاف ہو یعنی وہ گول لکڑی جس سے ڈول لٹکادیتے ہیں، اگر بکرة سکون کاف کے ساتھ ہوتو ترجمہ یوں ہوگا، وہ ڈول جس سے جو ان اونٹنی کو پانی پلاتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3682]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3676
3676. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں(خواب میں)ایک کنویں پر کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابو بکروعمر ؓ بھی پہنچ گئے۔ پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے دور کردے گا۔ پھر ابو بکر ؓ کے ہاتھ سے وہ ڈول حضرت عمر ؓ نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا شہ زور انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انھوں نے اتنا پانی کھنچا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلا کر بٹھا دیا۔ (راوی حدیث)وہب نے بیان کیا کہ العطن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے۔ اونٹ سیراب ہوئے کہ(وہیں) بیٹھ گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3676]
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث پہلے بھی گزرچکی ہے اور حضرت صدیق ؓ کی یہ ناتوانانی کوئی عیب نہیں ہے جو ان کے لیے خلقی تھی، اس ناتوانی کے باوجود ڈول انہوں نے پہلے سنبھالا، اسی سے حضرت عمر ؓ پر ان کی فوقیت ثابت ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3676]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3676
3676. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں(خواب میں)ایک کنویں پر کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابو بکروعمر ؓ بھی پہنچ گئے۔ پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے دور کردے گا۔ پھر ابو بکر ؓ کے ہاتھ سے وہ ڈول حضرت عمر ؓ نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا شہ زور انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انھوں نے اتنا پانی کھنچا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلا کر بٹھا دیا۔ (راوی حدیث)وہب نے بیان کیا کہ العطن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے۔ اونٹ سیراب ہوئے کہ(وہیں) بیٹھ گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3676]
حدیث حاشیہ:

کنویں سے مراد دین کی طرف اشارہ ہے کہ جو حیاتِ نفوس کا منبع ہے اور جس سے معاش ومعاد سب کے معاملات پورے ہوتے ہیں۔

ضعف سے فتنہ ارتداد کی طرف اشارہ ہے جو ابوبکر ؓ کے دورخلافت میں ظاہر ہوا،جس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ انھوں نے استقامت کاپہاڑ بن کر ان فتنوں کا مقابلہ کیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے ان کی نرم مزاجی کی طرف اشارہ ہو کہ و ہ سخت گیر نہ تھے۔

بہرحال اس کمزوری کے باوجود انھوں نے حضرت عمر ؓ سے پہلے ڈول سنبھالا،اس سے حضرت عمر ؓ پر ان کی فوقیت ثابت ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3676]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3682
3682. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں۔ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ آئے تو انھوں نے ایک یا دو ڈول پانی کے بھرے ہوئے کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر حضرت عمر ؓ آئےتو وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی شہ زوراور طاقتور آدمی نہیں دیکھا جس نے اتنی مہارت سےاپنا کام پورا کیا ہو، یہاں تک لوگ خود بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے ان کے ٹھکانوں میں باندھ دیا۔ ابن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ عَبْقَرِيٍّ عمدۃ قالین کو کہتے ہیں۔ حضرت یحییٰ کہتے ہیں کہ زَرَابِيُّ باریک کناروں والی چادروں کو کہاجاتا ہے۔ مَبْثُوثَةٌ کے معنی کثرت کے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3682]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں شیخین کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے امور کو کنویں سے تشبیہ دی ہے۔
چونکہ لوگوں کی زندگی کا انحصار اور ان کی بقا کا سبب پانی ہے اور لوگوں کا پانی پلانا ان کے امور کی اصلاح اور ان کے مصالح کا انتظام کرنا ہے،حضرت عمر ؓ کے دورخلافت میں اسلام کی بہت ترقی ملی فتوحات ہوئیں جن کے نتیجے میں لوگ خوشحال ہوئے۔
آپ کے زمانہ خلافت میں عدل وانصاف کا خوب چرچا ہوا۔
بہرحال حضرت ابوبکر ؓ کے مقابلے میں ان کا دور حکومت بہت طویل تھا۔
فتوحات ہونے کے باوجود اختلاف کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملا جیسا کہ حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں ہوا،بالآخر حضرت عثمان ؓ کی شہادت اسی اختلاف کے نتیجے میں ہوئی۔

حدیث کے آخری الفاظ کہ لوگ بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کیا،ان میں حضرت عمرفاروق ؓ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان کے دور میں اسلام کو وسعت ہوئی اور لوگوں کو آرام اورسکون ملا۔
اس حدیث میں حضرت عمر ؓ کی منقبت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔

امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ حدیث میں مذکور کسی لفظ کی مناسبت سے قرآنی الفاظ کی لغوی تشریح کردیتے ہیں،چنانچہ آپ نے لفظ عبقری کی لغوی تشریح کی ہے اگرچہ حدیث میں اس سے مراد ماہر،تجربہ کار اور قوم کا سردار ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3682]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7019
7019. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں کنویں سے پانی نکال رہا تھا کہ اچانک میرے پاس ابو بکر اور عمر آئے اور پھر ابو بکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی نکالا۔ ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ اس کے بعد عمر ؓ آئے۔ انہوں نے ابو بکر کے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے لوگوں میں کسی ماہر کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کھینچتا ہو حتیٰ کہ لوگوں نے اونٹوں کے پینے کے لیے پانی سے حوض بھر لیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7019]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خواب بیان ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب وحی ہوتا تھا اس کی تعبیر خلافت و امارات کا عمل ہے۔
پانی نکالنا لوگوں کے لیے اجتماعی خدمات سر انجام دینا ہے۔
خلافت کا عمل حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو یا تین سال کیا۔
ان کے دور خلافت میں داخلی انتشار کی وجہ سے فتوحات نہ ہو سکیں جس کی طرف کمزوری کی صورت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عمل کو سنبھالا تو انھوں نے پوری قوت کے ساتھ اس عمل کو سر انجام دیا فتوحات ہوئیں۔
اسلامی حکومت خوب وسیع ہوئی مال غنیمت سے لوگوں میں آسودگی آئی اور داخلی طور پر بھی استحکام پیدا ہوا۔

اس خواب میں واضح اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا عمل حضرت ابو بکر چلائیں گے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس منصب پر فائز ہوں گے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7019]

Sahih Muslim Hadith 6196 in Urdu