صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2389 ترقیم شاملہ: -- 6187
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ، وَيُثْنُونَ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُكَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَوْ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا ".
ابن مبارک نے عمر بن سعید بن ابی حسین سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا، جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کے جسد خاکی) کو چارپائی پر رکھا گیا تو (جنازہ) اٹھانے سے پہلے لوگوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا۔ وہ دعائیں کر رہے تھے، تعریف کر رہے تھے، دعائے رحمت کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا تو مجھے اچانک کسی ایسے شخص نے چونکا دیا جس نے پیچھے سے (آ کر) میرا کندھا تھاما۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور کہا: آپ نے کوئی ایسا آدمی پیچھے نہ چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر اس بات میں مجھے محبوب ہو کہ میں اللہ سے اس کے جیسے عملوں کے ساتھ ملوں۔ اللہ کی قسم! مجھے ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا، آپ فرمایا کرتے تھے: ”میں، ابوبکر اور عمر آئے۔ میں، ابوبکر اور عمر اندر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔“ مجھے امید تھی بلکہ مجھے ہمیشہ سے یقین رہا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6187]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کے جسد خاکی) کو چارپائی پر رکھا گیا تو (جنازہ) اٹھانے سے پہلے لوگوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا، وہ دعائیں کر رہے تھے، تعریف کر رہے تھے اور دعائے رحمت کر رہے تھے، میں بھی ان میں شامل تھا تو مجھے اچانک کسی ایسے شخص نے چونکا دیا جس نے پیچھے سے (آکر) میرا کندھا تھاما، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور کہا: آپ نے کوئی ایسا آدمی پیچھے نہ چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر اس بات میں مجھے محبوب ہو کہ میں اللہ سے اس کے جیسے عملوں کے ساتھ ملوں، اللہ کی قسم! مجھے ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا، اس کا سبب یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا، آپ فرمایا کرتے تھے: ”میں، ابوبکر اور عمر آئے۔ میں، ابوبکر اور عمر اندر گئے، میں، ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔“ مجھے امید تھی بلکہ مجھے ہمیشہ سے یقین رہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6187]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2389
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2389 ترقیم شاملہ: -- 6188
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
عیسیٰ بن یونس نے عمر بن سعید سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6188]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6188]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2389
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2390 ترقیم شاملہ: -- 6189
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد واللفظ لهم، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، قَالُوا: مَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الدِّينَ ".
ابوامامہ بن سہل نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا: میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے قمیص پہنی ہوئی ہیں، کسی کی قمیص چھاتی تک پہنچتی ہے، کسی کی اس سے نیچے تک پہنچتی ہے اور عمر بن خطاب گزرے تو ان پر جو قمیص ہے وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں۔“ لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6189]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے لائے جا رہے ہیں، انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی ہیں، کسی کی قمیص چھاتی تک پہنچتی ہے اور کسی کی اس سے نیچے تک پہنچتی ہے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گزرے تو ان پر جو قمیص ہے وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں۔“ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6189]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2390
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2391 ترقیم شاملہ: -- 6190
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْعِلْمَ ".
یونس نے کہا: ابن شہاب نے انہیں بتایا، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میرے پاس لایا گیا۔ اس میں دودھ تھا۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔“ (حاضرین نے) کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا: ”علم۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6190]
حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میرے پاس لایا گیا۔ اس میں دودھ تھا، میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔“ (حاضرین نے) کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا: ”علم۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6190]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2391
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2391 ترقیم شاملہ: -- 6191
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلاهما، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6191]
یہی روایت امام اپنے تین دیگر اساتذہ کی دو سندوں سے روایت کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2391
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2392 ترقیم شاملہ: -- 6192
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو ایک کنویں پر دیکھا، اس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس میں جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ ان کی مغفرت کرے! ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا، چنانچہ میں نے لوگوں میں کوئی ایسا عبقری (غیر معمولی صلاحیت کا مالک) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکالے حتی کہ لوگ اونٹوں کو (سیراب کر کے گھاٹ سے باہر) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6192]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو ایک کنویں پر دیکھا، اس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس میں سے جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دو ڈول نکالے، «يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ» ”اللہ ان کی مغفرت کرے!“ ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پکڑ لیا، چنانچہ میں نے لوگوں میں کوئی ایسا عبقری (غیر معمولی صلاحیت کا مالک) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرح سے پانی نکالے حتیٰ کہ لوگ اونٹوں کو (سیراب کر کے گھاٹ سے باہر) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2392 ترقیم شاملہ: -- 6193
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6193]
امام صاحب رحمہ اللہ نے یہی روایت چار اور اساتذہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2392 ترقیم شاملہ: -- 6194
حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ الْأَعْرَجُ ، وَغَيْرُهُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، يَنْزِعُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
صالح نے کہا: اعرج وغیرہ نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا۔“ زہری کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6194]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ابوقحافہ کے بیٹے کو ڈول کھینچتے دیکھا“، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2392 ترقیم شاملہ: -- 6195
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُرِيتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ، فَجَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَوِّحَنِي، فَنَزَعَ دَلْوَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَجَاءَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ، فَلَمْ أَرَ نَزْعَ رَجُلٍ قَطُّ أَقْوَى مِنْهُ، حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ مَلْآنُ يَتَفَجَّرُ ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا تو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے مجھے آرام پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، انہوں نے دو ڈول پانی نکالا، ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے! پھر ابن خطاب رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ان سے ڈول لے لیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگ (سیراب ہو کر) چلے گئے اور حوض پوری طرح بھرا ہوا تھا، (اس میں سے) پانی امڈ رہا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6195]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا تو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے مجھے آرام پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، انہوں نے دو ڈول پانی نکالا، ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، «يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ» ”اللہ ان کی مغفرت فرمائے!“ پھر ابن خطاب رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ان سے ڈول لے لیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگ (سیراب ہو کر) چلے گئے اور حوض پوری طرح بھرا ہوا تھا (اس میں سے) پانی امڈ رہا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2393 ترقیم شاملہ: -- 6196
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا، أَوْ ذَنُوبَيْنِ، فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ، حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ ".
ابوبکر بن سالم نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے (خواب میں دیکھا) کہ جیسے میں ایک کنویں پر چرخی والے ڈول سے پانی نکال رہا ہوں، پھر ابوبکر آگئے، انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، انہوں نے کچھ کمزوری سے ڈول نکالے۔ پھر عمر آئے، انہوں نے پانی نکالا تو وہ بہت بڑا ڈول بن گیا، میں نے لوگوں میں کوئی غیر معمولی آدمی بھی ایسا نہیں دیکھا جو ان جیسی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہو یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے (جانوروں کو سیراب کر کے) آرام کرنے کی جگہ پہنچا دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6196]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک کنویں پر چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے اور انہوں نے کمزوری کے ساتھ ڈول کھینچا، «يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ» ”اللہ تبارک و تعالیٰ اسے معاف فرمائے“، پھر عمر رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے پانی نکالنا شروع کیا اور ڈول بہت بڑا ڈول بن گیا، میں نے کوئی ماہر اور عبقری انسان اس جیسا کام سرانجام دیتے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پانی پلا کر ان کی جگہوں پر بٹھا دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2393
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة