صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 62
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ: مَا رَأَيْتُ أَيُّوبَ اغْتَابَ أَحَدًا قَطُّ، إِلَّا عَبْدَ الْكَرِيمِ يَعْنِي أَبَا أُمَيَّةَ، فَإِنَّهُ ذَكَرَهُ، فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: كَانَ غَيْرَ ثِقَةٍ، لَقَدْ سَأَلَنِي، عَنْ حَدِيثٍ لِعِكْرِمَةَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ،
معمر نے کہا: میں نے ایوب کو کبھی کسی کی پیٹھ پیچھے اسے برا کہتے نہیں سنا، سوائے عبدالکریم، یعنی ابوامیہ کے۔ انہوں نے اس کا ذکر کیا تو کہا: اللہ اس پر رحم کرے، غیر ثقہ ہے، اس نے مجھ سے عکرمہ سے روایت کی گئی ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا، پھر (لوگوں سے) کہا: میں نے عکرمہ سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 62]
معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایوب رحمہ اللہ کو کسی کی غیبت کرتے نہیں دیکھا سوائے عبدالکریم یعنی ابو امیہ کے، کیونکہ ایوب رحمہ اللہ نے ان کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا: اللہ ان پر رحم فرمائے! وہ ثقہ نہیں تھا، اس نے مجھ سے عکرمہ رحمہ اللہ کی ایک حدیث دریافت کی، پھر کہنے لگا: میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 62]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18445)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 62 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 62
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
غیر ثقہ ہونے کے لیے اتنی بات کافی نہیں ہے،
کیونکہ ممکن ہے اس نے عکرمہؒ سے وہ حدیث سنی ہو،
پھر بھول گیا ہو،
یاد کرنے کے لیے پوچھا،
لیکن چونکہ دوسرے قرائن اور حالات سے اس کا ضعف ثابت ہوگیا تھا،
اس لیے محدثینؒ نے اس کو ضعیف قرار دیا۔
اس لیے سفیان بن عینیہؒ،
عبدالرحمٰن بن مہدیؒ،
احمد بن حنبلؒ،
یحیٰ بن سعید القطانؒ وغیرہم جلیل القدر ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
فوائد ومسائل:
غیر ثقہ ہونے کے لیے اتنی بات کافی نہیں ہے،
کیونکہ ممکن ہے اس نے عکرمہؒ سے وہ حدیث سنی ہو،
پھر بھول گیا ہو،
یاد کرنے کے لیے پوچھا،
لیکن چونکہ دوسرے قرائن اور حالات سے اس کا ضعف ثابت ہوگیا تھا،
اس لیے محدثینؒ نے اس کو ضعیف قرار دیا۔
اس لیے سفیان بن عینیہؒ،
عبدالرحمٰن بن مہدیؒ،
احمد بن حنبلؒ،
یحیٰ بن سعید القطانؒ وغیرہم جلیل القدر ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 62]
Sahih Muslim Hadith 62 in Urdu