🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في فضل عائشة رضي الله تعالى عنها:
باب: ام المؤمنین سیدہ ‏عائشہ رضی اللہ عنہماکی ‌‌فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2439 ترقیم شاملہ: -- 6286
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: نہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! تک روایت کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6286]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے رب ابراہیم تک بیان کرتے ہیں اوربعد والا حصہ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكرثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6286 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6286
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کو عالم الغیب نہیں سمجھتی تھیں،
وگرنہ یہ سوال نہ کرتیں،
آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے،
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا انسان کے قول و فعل سے اس کی دلی کیفیت پر روشنی پڑتی ہے اور قرائن سے کسی کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور میاں بیوی کا تعلق و رشتہ،
محض امتی کے تعلق سے بلند و بالا ہے،
اس لیے بیوی ناز و تذلل اور خاوند کی محبت کی بناء پر ایسی بات یا ایسی حرکت کر لیتی ہے جو عام طور پر پسندیدہ خیال نہیں کی جاتی اس لیے بیوی کا خاوند سے جذبہ محبت کی بنا پر ناراضی کا اظہار قابل گرفت نہیں ہے،
کیونکہ وہ ظاہری ہوتا ہے،
دل میں محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے،
اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،
میں صرف آپ کا نام ہی ترک کرتی ہوں،
دل میں رشتہ محبت برقرار ہوتا ہے اور نام بھی آپ ہی کے جد اعلیٰ کا لیتی ہوں،
جو آپ کے انتہائی قریب ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6286]