صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب من فضائل عبد الله بن مسعود وامه رضي الله تعالى عنهما:
باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2463 ترقیم شاملہ: -- 6333
أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ، وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي، تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ "
مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ کی کوئی سورت نہیں مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کب نازل ہوئی، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہیں تو میں (اونٹوں پر سفر کر کے) اس کے پاس جاؤں (اور قرآن کا علم حاصل کروں)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6333]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ کی کوئی سورہ ایسی نہیں مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کب نازل ہوئی، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت ایسی نہیں مگر مجھے علم ہے کہ وہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے اور اس کے پاس اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں سوار ہو کر اس کے پاس پہنچوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6333]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2463
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6333 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6333
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی ضرورت اور مقصد کے تحت انسان اپنے علم و فضل کا اظہار کر سکتا ہے،
لیکن بلا ضرورت یا اپنی بڑائی کے اظہار اور فخروریا کی خاطر ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی ضرورت اور مقصد کے تحت انسان اپنے علم و فضل کا اظہار کر سکتا ہے،
لیکن بلا ضرورت یا اپنی بڑائی کے اظہار اور فخروریا کی خاطر ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6333]
Sahih Muslim Hadith 6333 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن عمرو السهمي