صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب من فضائل غفار واسلم وجهينة واشجع ومزينة وتميم ودوس وطيئ:
باب: قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2519 ترقیم شاملہ: -- 6438
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَغِفَارُ، وَأَشْجَعُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ ".
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو بھی بنو عبداللہ میں سے ہیں (ان کے علاقے میں رہنے والے) باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے اپنے مددگار ہیں اور اللہ اور اس کا رسول ان کے مددگار ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6438]
حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"انصار،مزینہ،جہینہ،غفار،اشجع اور(غطفانی قبیلہ کے)بنو عبداللہ کے جو لوگ ہیں،وہ لوگوں کے سوامیرے معاون اور ساتھی ہیں اور اللہ اور اس کا رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کاکارساز ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6438]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2519
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6438 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6438
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مزینہ،
جہینہ،
غفار،
اشجع اور غطفان کا خاندان بنو عبدالعزیٰ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبداللہ کا نام دیا،
جاہلیت کے دور میں،
شرف،
و مکان اور قوت و طاقت کے اعتبار سے بنو عامر بن صعصہ اور بنو تمیم وغیرہا سے کم تر سمجھے جاتے تھے،
لیکن جب انہوں نے اسلام لانے میں پیش قدمی کی تو شرف و سرفرازی کا مقام ان کو حاصل ہو گیا اور جاہلیت کے معزز طاقتور و قبائل پیچھے رہ گئے۔
فوائد ومسائل:
مزینہ،
جہینہ،
غفار،
اشجع اور غطفان کا خاندان بنو عبدالعزیٰ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبداللہ کا نام دیا،
جاہلیت کے دور میں،
شرف،
و مکان اور قوت و طاقت کے اعتبار سے بنو عامر بن صعصہ اور بنو تمیم وغیرہا سے کم تر سمجھے جاتے تھے،
لیکن جب انہوں نے اسلام لانے میں پیش قدمی کی تو شرف و سرفرازی کا مقام ان کو حاصل ہو گیا اور جاہلیت کے معزز طاقتور و قبائل پیچھے رہ گئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6438]
موسى بن طلحة القرشي ← أبو أيوب الأنصاري