صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
56. باب وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِ مِصْرَ:
باب: مصر والوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2543 ترقیم شاملہ: -- 6493
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا "، قَالَ: فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ، فَخَرَجَ مِنْهَا.
ابن وہب نے کہا: ہمیں حرملہ بن عمران تحبیی نے عبدالرحمان بن شماسہ مہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گے جس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہو گا (یہ ان کے چھوٹے سکے کا نام ہو گا) تم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو، کیونکہ ان کا (ہم پر) حق بھی ہے اور رشتہ بھی، پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لیے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا۔“ (حرملہ بن عمران نے) کہا: تو (عبدالرحمان بن شماسہ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے، وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں (مصر) سے نکل آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6493]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عنقریب ایک ایسی زمین کو فتح کرو گے جس میں «قِيرَاط» کا نام لیا جاتا ہو گا، تم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو، کیونکہ ان کا (ہم پر) حق بھی ہے اور رشتہ بھی، پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لیے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا۔“ (حرملہ بن عمران نے) کہا: تو (عبدالرحمن بن شماسہ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمن کے قریب سے گزرے، وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں سے نکل آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6493]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6493 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6493
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ذمة ورحما:
عہد اور رشتہ داری سے مراد،
حضرت حاجرہ کا اہل مصر سے ہونا ہے،
ان کی بنا پر وہ احترام کا حق رکھتے ہیں۔
(2)
يتنازعان في موضع لبنة:
وہ اینٹ کے برابر جگہ پر اتریں گے،
یعنی معمولی معمولی فوائد و منافع اور مفادات پر اختلاف شروع ہو جائیں گے،
کھیتی باڑی کا غلبہ ہو گا اور دین کی اہمیت نہیں رہے گی۔
مفردات الحدیث:
(1)
ذمة ورحما:
عہد اور رشتہ داری سے مراد،
حضرت حاجرہ کا اہل مصر سے ہونا ہے،
ان کی بنا پر وہ احترام کا حق رکھتے ہیں۔
(2)
يتنازعان في موضع لبنة:
وہ اینٹ کے برابر جگہ پر اتریں گے،
یعنی معمولی معمولی فوائد و منافع اور مفادات پر اختلاف شروع ہو جائیں گے،
کھیتی باڑی کا غلبہ ہو گا اور دین کی اہمیت نہیں رہے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6493]
Sahih Muslim Hadith 6493 in Urdu
عبد الرحمن بن شماسة المهري ← أبو ذر الغفاري