🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب تقديم بر الوالدين على التطوع بالصلاة وغيرها:
باب: نفل نماز پر والدین کی اطاعت مقدم ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2550 ترقیم شاملہ: -- 6508
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ، قَالَ حُمَيْدٌ: فَوَصَفَ لَنَا أَبُو رَافِعٍ صِفَةَ أَبِي هُرَيْرَةَ، لِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّهُ حِينَ دَعَتْهُ كَيْفَ جَعَلَتْ كَفَّهَا فَوْقَ حَاجِبِهَا، ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَيْهِ تَدْعُوهُ، فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ: أَنَا أُمُّكَ كَلِّمْنِي، فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَرَجَعَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فِي الثَّانِيَةِ، فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ: أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي، قَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ وَهُوَ ابْنِي وَإِنِّي كَلَّمْتُهُ، فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي اللَّهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ، قَالَ: وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَنَ لَفُتِنَ، قَالَ: وَكَانَ رَاعِي ضَأْنٍ يَأْوِي إِلَى دَيْرِهِ، قَالَ: فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي، فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقِيلَ لَهَا: مَا هَذَا؟ قَالَتْ: مِنْ صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ، قَالَ: فَجَاءُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَنَادَوْهُ فَصَادَفُوهُ يُصَلِّي، فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا لَهُ: سَلْ هَذِهِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ، فَقَالَ: مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي رَاعِي الضَّأْنِ، فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْهُ، قَالُوا: نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِكَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا كَمَا كَانَ ثُمَّ عَلَاهُ ".
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں حمید بن ہلال نے ابورافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جریج نوکیلی چھت والی چھوٹی سی عبادت گاہ میں عبادت کر رہا تھا کہ اس کی ماں آئی۔ حمید نے کہا: ابورافع نے ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح واضح کر کے دکھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے واضح کیا تھا کہ جب اس کی ماں نے اسے بلایا تو اس نے کس طرح اپنا ہاتھ اپنے ابروؤں پر رکھا تھا اور پھر اسے بلانے کے لیے اپنا سر اوپر کی طرف کیا تھا تو آواز دی: جریج! میں تیری ماں ہوں، میرے ساتھ بات کر۔ ماں نے عین اسی وقت ان (جریج) کو بلایا تھا جب وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ تو اس نے کہا: میرے اللہ! (ایک طرف) میری ماں ہے اور (دوسری طرف) میری نماز ہے؟ تو اس نے اپنی نماز کو ترجیح دی۔ وہ واپس چلی گئیں، پھر دوسری بار آئیں اور بلایا: جریج! میں تیری ماں ہوں، میرے ساتھ بات کرو۔ اس نے کہا: اے اللہ! میری ماں اور میری نماز ہے، انہوں نے نماز کو ترجیح دی، تو ماں نے دعا کی: اے اللہ! یہ جریج ہے، یہ میرا بیٹا ہے، میں نے اس سے بات کی ہے، اس نے میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یا اللہ! تو اسے بدکار عورتوں کا منہ دکھانے سے پہلے موت نہ دینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو یہ بددعا دیتیں کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے تو وہ ہو جاتا۔ فرمایا: بھیڑوں کا ایک چرواہا (بھی) اس کی عبادت گاہ کی پناہ لیا کرتا تھا (اس کے سائے میں آ بیٹھتا تھا۔) فرمایا: بستی سے ایک عورت نکلی، چرواہے نے اس کے ساتھ بدکاری کی، وہ حاملہ ہو گئی اور ایک بیٹے کو جنم دیا۔ اس عورت سے پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ اس عبادت گاہ والے شخص سے (ہوا) ہے۔ کہا: تو وہ (بستی والے) لوگ اپنے پھاؤڑے اور کدال لے کر آ گئے، انہوں نے جریج کو بلایا، انہوں نے اسی وقت ان کو بلایا تھا جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، اس لیے انہوں نے ان لوگوں سے یہ بات نہ کی۔ لوگوں نے ان کی عبادت گاہ گرائی شروع کر دی، جب انہوں نے یہ دیکھا تو اتر کر ان کی طرف آئے۔ لوگوں نے ان سے کہا: اس عورت سے پوچھو (کیا معاملہ ہے)، فرمایا: تو وہ مسکرائے، بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر پوچھا: تمہارا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میرا باپ بھیڑوں کا چرواہا ہے۔ جب انہوں نے اس (شیر خوار) سے یہ سنا تو کہنے لگے: ہم نے آپ کی عبادت گاہ کا جو حصہ گرایا ہے اسے سونے اور چاندی سے (دوبارہ) بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن اسی طرح مٹی سے بنا دو جس طرح پہلے تھی، پھر وہ اس کے اوپر (عبادت گاہ میں) چلے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6508]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جریج اپنی عبادت گاہ میں عبادت کرتے تھے، چنانچہ ان کی ماں آئی۔ حمید کہتے ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ماں کی جو کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، وہی کیفیت و صورت ابورافع نے ہمیں بتائی کہ اس کی ماں نے جب اسے بلایا تو کیسے اپنی ہتھیلی اپنے ابرو پر رکھی تھی، پھر اسے بلانے کے لیے اس کی طرف اپنا سر اٹھایا اور آواز دی: اے جریج! میں تیری ماں ہوں، مجھ سے گفتگو کرو۔ تو اس نے اسے نماز پڑھتے ہوئے پایا، جریج نے دل میں کہا: اے اللہ! میری نماز اور میری ماں (کس کو ترجیح دوں؟) پھر اس نے نماز کو ترجیح دی تو وہ واپس چلی گئی، پھر دوبارہ آئی اور آواز دی: اے جریج! میں تیری ماں ہوں، مجھ سے ہم کلام ہو، اس نے دل میں کہا: اے اللہ! میری ماں اور میری نماز۔ تو اس نے نماز کا انتخاب کیا تو اس کی ماں نے کہا: اے اللہ! یہ جریج ہے اور یہ میرا بیٹا ہے اور میں نے اس سے ہم کلام ہونا چاہا ہے، سو اس نے مجھ سے گفتگو کرنے سے انکار کیا ہے، اے اللہ! اس کو اس وقت تک نہ مارنا، جب تک تو اسے بدکار عورتوں کا نظارہ نہ کرادے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونے کی دعا کرتی تو وہ فتنہ میں مبتلا کر دیا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دنبوں کا چرواہا تھا، جو اس کے دیر کے پاس ٹھہرتا تھا، چنانچہ ایک عورت بستی سے نکلی اور چرواہے نے اس سے بدکاری کی، جس سے اسے حمل ٹھہر گیا اور اس نے ایک بچہ جنا، اس سے پوچھا گیا: یہ کس کی حرکت ہے؟ اس نے کہا: اس دیر والے کی، تو لوگ اپنے کلہاڑے اور کسیاں لے کر آگئے اور اسے آواز دی تو انہوں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے پایا، اس لیے اس نے ان کو جواب نہ دیا تو لوگ اس کا دیر یعنی عبادت خانہ گرانے لگے، تو جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو ان کے پاس اتر آیا، لوگوں نے اسے کہا: اس عورت سے پوچھو! تو وہ مسکرایا، پھر بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا: تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میرا باپ دنبوں کا چرواہا ہے، تو جب لوگوں نے بچے سے یہ سنا تو کہنے لگے: ہم نے تیرا جو معبد گرایا ہے، ہم اسے سونے اور چاندی سے بنا دیتے ہیں، اس نے کہا: نہیں، لیکن اسے پہلے ہی کی طرح مٹی کا بنا دو، پھر وہ اس میں چڑھ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6508]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥نفيع بن رافع المدني، أبو رافع
Newنفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥حميد بن هلال العدوي، أبو نصر
Newحميد بن هلال العدوي ← نفيع بن رافع المدني
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← حميد بن هلال العدوي
ثقة ثقة
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد
Newشيبان بن أبي شيبة الحبطي ← سليمان بن المغيرة القيسي
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6508 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6508
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
صومعه:
مخروطی شکل کا چبارہ یا منارا۔
(2)
مومسات:
مفرد مومسة ہے،
بدکار اور زانیہ عورت،
فؤؤس،
فاس کی جمع ہے،
کدال مراد ہے،
جس سے زمین کھودی جاتی ہے۔
(3)
مساحي:
مسحاة کی جمع ہے،
جس آلہ سے زمین سے مٹی اکٹھی کی جاتی ہے،
پھاوڑا،
کسی۔
(4)
ابي راعي الضان:
میرا باپ بھیڑوں کا چرواہا ہے،
چونکہ وہ اس کے نطفہ سے پیدا ہوا تھا،
اس لیے اس کو باپ کا نام دیا گیا اور اس کا نام بابوس تھا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
اگر انسان نماز پڑھ رہا ہو اور اس کی والدہ کو اس کا علم نہ ہو سکے اور جواب نہ دینے کی صورت میں اس کی مامتا کو ٹھیس پہنچتی ہو،
یعنی جواب نہ دینا،
اس کے لیے اذیت اور ناگواری کا باعث ہو تو نماز توڑ کر اس کو جواب دینا چاہیے،
کیونکہ نماز اگر نفل ہے تو اس کو دوبارہ پڑھا جا سکتا ہے،
اور اگر فرض ہے تو اس کی قضائی ممکن ہے اور پہلی امتوں میں تو نماز کے دوران ضروری گفتگو کرنا جائز تھا،
جیسا کہ اسلام میں بھی آغاز میں جائز رہا ہے،
اس لیے اسے جواب دینا چاہیے تھا،
اس نے تشدد اور انتہا پسندی سے کام لیا،
اس لیے ماں کی بددعا قبول ہو گئی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6508]

Sahih Muslim Hadith 6508 in Urdu