🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب من لعنه النبي صلى الله عليه وسلم او سبه او دعا عليه وليس هو اهلا لذلك كان له زكاة واجرا ورحمة:
باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2604 ترقیم شاملہ: -- 6628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ، قَالَ: فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، وَقَالَ: اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ، قَالَ، ثُمَّ قَالَ لِيَ: اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قُلْتُ لِأُمَيَّةَ: مَا حَطَأَنِي؟ قَالَ: قَفَدَنِي قَفْدَةً ".
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، کہا: آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا: جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔ میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔ میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6628]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر میرے کندھوں کے درمیان پیار سے تھپکی دی اور فرمایا: جاؤ اور میرے لیے معاویہ کو بلا لو۔ تو میں نے آکر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور میری خاطر معاویہ کو بلا لاؤ۔ تو میں نے واپس آکر کہا: وہ کھانا کھا رہا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔ ابن مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد امیہ سے پوچھا: «حَطَأَنِي» کا کیا معنی ہے؟ اس نے کہا: «قَفَدَنِي قَفْدَةً» یعنی گدی پر دھول ماری۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عمران بن أبي عطاء الأسدي، أبو حمزة
Newعمران بن أبي عطاء الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمران بن أبي عطاء الأسدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أمية بن خالد الأزدي، أبو عبد الله
Newأمية بن خالد الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← أمية بن خالد الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6628 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6628
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بلانے گئے تو وہ روٹی کھا رہے تھے،
وہ دیکھ کر واپس آ گئے اور آپ کو بتا دیا،
اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی آپ کے بلانے کی اطلاع دی تھی،
یا فورا آنے کے لیے کہا تھا،
اس لیے آپ نے عربوں کی عادت کے مطابق،
بے تکلفی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا،
اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے،
جس طرح آج بھی ساتھی اور دوست بے تکلفی سے کھانے والے کو کہہ دیتے،
تیرا پیٹ ہے یا تنور ہے،
جو بھرنے کا نام ہی نہیں لیتا اور آپ نے ام سلیم کی یتیم بچی کو کہا تھا،
اس کی عمر نہ بڑے یا حضرت حفصہ کو کہا تھا،
عقری حلقٰی،
بعض دفعہ کہا،
تربت عينك،
ایسے مواقع پر محض پیارومحبت اور بے تکلفی کا اظہار ہوتا ہے،
بددعا مقصود نہیں ہوتی،
اس لیے امام مسلم اس کو ان حدیثوں میں لائے ہیں،
جن میں بتایا گیا ہے کہ اگر میں اپنے کسی امتی کے خلاف ایسی دعا کروں،
جس کا وہ مستحق نہ ہو تو اس کو اس کے لیے اجروثواب،
رحمت اور تقرب کا باعث بنا،
اس طرح یہ الفاظ ان کے حق میں دعا بن گئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6628]

Sahih Muslim Hadith 6628 in Urdu