پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب ذم ذي الوجهين وتحريم فعله:
باب: دو منہ والے منافق کی مذمت۔
ترقیم عبدالباقی: 2526 ترقیم شاملہ: -- 6630
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدترین انسانوں میں سے دو رخا شخص (بھی) ہوتا ہے۔ وہ ان لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا ہے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ ملتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6630]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رخا بدترین لوگوں میں سے ہے، جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسروں کے پاس جاتا ہے تو اور۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6630]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2526
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | إمام ثقة ثبت | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن ذكوان القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت إمام |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6630 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6630
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب دو آدمیوں یا دو جماعتوں میں اختلاف اور تنازع ہو تو وہ ہر فریق کے پاس جا کر دوسرے فریق کے خلاف بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں،
یا کسی کے ساتھ جب ملتے ہیں،
یا اس کی مجلس میں ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ اپنے حسن تعلق کا اظہار کرتے ہیں اور خوشامد و چاپلوسی کی تمام حدود عبور کر جاتے ہیں،
لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو اس کے پیچھے،
اس کی تحقیر و تنقیص اور برائی و بدخواہی کی باتیں کرتے ہیں،
اس کو عربی میں " ذوالوجهين " اور اردو میں "دورخا" کہتے ہیں اور ظاہر ہے،
یہ طرز عمل ایک طرح کی منافقت اور ایک قسم کی دھوکہ بازی ہے اور یہ ایک انتہائی خطرناک اور سنگین جرم ہے،
جس کو آج کل ایک خوبی و کمال سمجھا جاتا ہے اور یہ انسان کی ذہانت و فطانت اور دانشمندی کی علامت بن چکا ہے اور ڈپلومیسی کہلاتا ہے۔
لیکن ایسا انسان آخر کار رسوا اور ذلیل ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل:
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب دو آدمیوں یا دو جماعتوں میں اختلاف اور تنازع ہو تو وہ ہر فریق کے پاس جا کر دوسرے فریق کے خلاف بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں،
یا کسی کے ساتھ جب ملتے ہیں،
یا اس کی مجلس میں ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ اپنے حسن تعلق کا اظہار کرتے ہیں اور خوشامد و چاپلوسی کی تمام حدود عبور کر جاتے ہیں،
لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو اس کے پیچھے،
اس کی تحقیر و تنقیص اور برائی و بدخواہی کی باتیں کرتے ہیں،
اس کو عربی میں " ذوالوجهين " اور اردو میں "دورخا" کہتے ہیں اور ظاہر ہے،
یہ طرز عمل ایک طرح کی منافقت اور ایک قسم کی دھوکہ بازی ہے اور یہ ایک انتہائی خطرناک اور سنگین جرم ہے،
جس کو آج کل ایک خوبی و کمال سمجھا جاتا ہے اور یہ انسان کی ذہانت و فطانت اور دانشمندی کی علامت بن چکا ہے اور ڈپلومیسی کہلاتا ہے۔
لیکن ایسا انسان آخر کار رسوا اور ذلیل ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6630]
Sahih Muslim Hadith 6630 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي