🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب فضل الإحسان إلى البنات:
باب: بیٹیوں کے پالنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2630 ترقیم شاملہ: -- 6694
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا، فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً، وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا، فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا، فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ، أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ ".
عراک بن مالک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی، (بچی ہوئی) ایک کھجور کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی، تو وہ بھی اس کی دو بیٹیوں نے کھانے کے لیے مانگ لی، اس نے وہ کھجور بھی جو وہ کھانا چاہتی تھی، دو حصے کر کے دونوں بیٹیوں کو دے دی۔ مجھے اس کا یہ کام بہت اچھا لگا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا: اللہ نے اس (عمل) کی وجہ سے اس کے لیے جنت پکی کر دی ہے یا (فرمایا:) اس وجہ سے اسے آگ سے آزاد کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6694]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بچیوں کو اٹھائے ہوئے آئی تو میں نے اس کو کھانے کے لیے تین کھجوریں دیں تو اس نے ان میں سے ہر ایک کو ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف اٹھائی تو دونوں بچیوں نے اس کے کھانے کی بھی خواہش کی، چنانچہ اس نے وہ کھجور جسے وہ کود کھانا چاہتی تھی ان دونوں کے درمیان بانٹ دی تو مجھے اس کی اس حالت سے بہت تعجب ہوا، چنانچہ میں نے اس کے اس کام کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اس عمل پر جنت واجب ٹھہرادی یا اس کے ذریعہ اس کو آگ سے آزاد فرمادیا۔" [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6694]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2630
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عراك بن مالك الغفاري
Newعراك بن مالك الغفاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥زياد بن ميسرة المخزومي، أبو زياد القرشي، أبو جعفر
Newزياد بن ميسرة المخزومي ← عراك بن مالك الغفاري
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← زياد بن ميسرة المخزومي
ثقة مكثر
👤←👥بكر بن مضر القرشي، أبو محمد، أبو عبد الملك
Newبكر بن مضر القرشي ← يزيد بن الهاد الليثي
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← بكر بن مضر القرشي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6694 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6694
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر یہ واقعہ الگ نہیں ہے،
مذکورہ بالا واقعہ ہی ہے تو پھر مذکورہ بالا حدیث میں ایک کھجور کا تذکرہ اس لیے ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو ایک کھجور ہی ملی تھی اور یہاں مجموعی اعتبار سے تین کہہ دیا گیا ہے،
یا چونکہ تقسیم کا تعلق اپنے حصہ میں آنے والی کھجور سے ہے اس لیے مذکورہ بالا حدیث میں صرف تقسیم ہونے والی کھجور کا تذکرہ کیا،
بچیوں کو ملنے والی دونوں کھجوروں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6694]