یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه:
باب: جس شخص کا بچہ مرے اور وہ صبر کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 2634 ترقیم شاملہ: -- 6700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ وَزَادَا جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ.
محمد بن جعفر اور معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت کی اور دونوں نے شعبہ سے (روایت کرتے ہوئے) مزید یہ کہا: عبدالرحمان بن اصبہانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابوحازم سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین بچے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6700]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"ایسے تین بچے جو بالغ نہ ہوئے ہوں،یا گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں۔" [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6700]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2634
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6700 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6700
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
والدین چھوٹے بچوں سے زیادہ پیارومحبت کرتے ہیں،
اس لیے ان کے مرنے پر غم و حزن بھی زیادہ ہوتا ہے،
اکثر علماء کے نزدیک یہ قید احترازی ہے کہ نابالغ بچوں والا ثواب بالغ بچوں کے مرنے پر نہیں ملے گا،
لیکن بعض کا خیال ہے،
چھوٹا بچہ والدین پر بوجھ ہوتا ہے،
اگر اس کے ملنے پر یہ ثواب ہے تو جو بچہ ماں باپ کا بوجھ اٹھاتا ہے اور گھر کے نظم و نسق کو سنبھالتا ہے،
اس پر بالاولیٰ یہ ثواب ہو گا،
کیونکہ اس کے مرنے کا غم زیادہ ہو گا۔
فوائد ومسائل:
والدین چھوٹے بچوں سے زیادہ پیارومحبت کرتے ہیں،
اس لیے ان کے مرنے پر غم و حزن بھی زیادہ ہوتا ہے،
اکثر علماء کے نزدیک یہ قید احترازی ہے کہ نابالغ بچوں والا ثواب بالغ بچوں کے مرنے پر نہیں ملے گا،
لیکن بعض کا خیال ہے،
چھوٹا بچہ والدین پر بوجھ ہوتا ہے،
اگر اس کے ملنے پر یہ ثواب ہے تو جو بچہ ماں باپ کا بوجھ اٹھاتا ہے اور گھر کے نظم و نسق کو سنبھالتا ہے،
اس پر بالاولیٰ یہ ثواب ہو گا،
کیونکہ اس کے مرنے کا غم زیادہ ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6700]
Sahih Muslim Hadith 6700 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي