صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
48. باب إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا ، أَمَرَ جِبْرَئِيلَ فَأَحَبَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْآرْضِ
باب: جب اللہ کریم کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو بھی اس سے محبت رکھنے کا حکم کرتے ہیں اور آسمان کے فرشتے بھی اس سے محبت کر تے ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 2637 ترقیم شاملہ: -- 6707
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: كُنَّا بِعَرَفَةَ، فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ، إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ، فَقَالَ: بِأَبِيكَ أَنْتَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلٍ.
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ ماجشون نے سہیل سے، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی، کہا: ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے، میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے، انہوں نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا: اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے، انہوں (ابوصالح) نے کہا: تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6707]
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں: ہم عرفہ میں تھے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ گزرے، جبکہ وہ امیرِ حج تھے، چنانچہ لوگ کھڑے ہو کر ان کو دیکھنے لگے تو میں نے اپنے باپ سے کہا: اے اباجان! میں سمجھتا ہوں، اللہ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ کیسے؟ میں نے کہا: کیونکہ لوگوں کے دلوں میں ان سے محبت ہے، انہوں نے کہا: تو نے کیا ہی خوب کہا، میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے، پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6707]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2637
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6707 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6707
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بابيك انت،
عربی محاورہ کی رو سے یہ مدح تعریف کا کلمہ ہے معنی یہ ہوتا ہے نعم ما قلت،
تو نے کیا ہی اچھی بات کہی۔
فوائد ومسائل:
بابيك انت،
عربی محاورہ کی رو سے یہ مدح تعریف کا کلمہ ہے معنی یہ ہوتا ہے نعم ما قلت،
تو نے کیا ہی اچھی بات کہی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6707]
Sahih Muslim Hadith 6707 in Urdu
سهيل بن أبي صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي