🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب الدليل على نجاسة البول ووجوب الاستبراء منه:
باب: پیشاب کی نجاست پر دلیل اور اس سے بچنا واجب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 292 ترقیم شاملہ: -- 678
حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَكَانَ الآخَرُ لَا يَسْتَنْزِهُ عَنِ الْبَوْلِ، أَوْ مِنَ الْبَوْلِ.
عبدالواحد نے اسی سند سے سلیمان اعمش سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی، سوائے اس کے کہ کہا: اور دوسرا پیشاب (اپنے کپڑوں یا جسم) کی طرف سے (بچنے کا اہتمام نہیں کرتا۔) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 678]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں کہ دوسرا «لا يستنزہ عن البول أو من البول»، بول سے احتیاط اور پرہیز نہیں کرتا تھا۔ پہلی حدیث میں «لا يستتر من بوله» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 678]
ترقیم فوادعبدالباقی: 292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمدثقة حافظ
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥المعلى بن أسد العمي، أبو الهيثم
Newالمعلى بن أسد العمي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن يوسف الأزدي، أبو الحسن
Newأحمد بن يوسف الأزدي ← المعلى بن أسد العمي
حافظ ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 678 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 678
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

چغلی کھانا اور پیشاب کے چھینٹوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش نہ کرنا ایسا جرم ہے جو انسان کے لیے عذاب قبر کاباعث بنے گا اس لیے ہمیں پیشاب وغیرہ نجاست سے اپنے جسم اور کپڑوں کو محفوظ رکھنے کی پوری کوشش اور فکر کرنی چاہیے اور چغل خوری کی عادت سے باز رہنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

کھجور کی ترشاخ کی تسبیح کو مدار تخفیف عذاب بنا کر بعض حضرات نے قبر کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کو مستحب قرار دیا ہے۔
اور یہ بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔
اگر یہی بات ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی تلاوت کیوں نہیں فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل سے یہ معنی کیوں نہیں اخذ کیا وہ اس عمل سے ہمیشہ کیوں محروم رہے۔

بعض حضرات نے اس حدیث سے قبر پر پھولوں اور درخت کی شاخوں کے رکھنے کا جواز نکالا ہے اور دلیل میں حضرت بریدہ اسلمی کا فعل پیش کیا ہے سوال یہ ہے اگرتخفیف عذاب کا باعث شاخ تر کا تسبیح کہنا ہے تو اس کے چیرنے کی کیا ضرورت تھی،
چیرنے کے باعث تو وہ جلد خشک ہو گئی۔
اس صورت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان قبروں پر کوئی پودا لگوانا چاہیے تھا۔
جو برسا برس تک ہرا بھرا رہتا،
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشاء اور نقطہ نظر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کیوں نہیں سمجھا،
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی مقصد تھا کہ تخفیف کا باعث تر شاخ کی تسبیح ہے تو وہ سب ایسا ہی کرتے اور ہر قبر پر شاخ نسب کرتے بلکہ درخت لگواتے اور اس کا اس دور میں عام رواج ہوتا،
اس کو صرف حضرت بریدہ اسلمی ہی کیوں سمجھے اور انہوں نے بھی،
اپنی قبر کے اندر کھجور کی دوشاخیں رکھنے کی وصیت قبر پر گاڑنے کی تلقین نہیں کی،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک شاخ کے دو ٹکڑے کیے تھے،
اور انہوں نے دو شاخیں رکھوائیں۔
ایک حنفی اس کی حکمت یہ بیان کرتے ہیں کھجور کے درخت میں برکت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو شجرہ طیبہ قرار دیا ہے۔
یہ تو پھر کھجور کے درخت کا خاصہ ہوا،
پھولوں اور عام شاخوں میں یہ برکت کہاں سے آ گئی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کھجور کی شاخ کے ٹکڑے گاڑے تھے اور وہ بھی صرف دو قبروں پر،
اگر یہ عمل عام مسلمانوں کے لیے تخفیف عذاب کا باعث ہے اور مقربین کے لیے ترقی درجات کا سبب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو اس سے کیوں محرو م رکھا۔
ان کی قبروں پر شاخ کا ٹکڑا نصب کرنے کی تلقین اور ہدایت نہیں فرمائی اور نہ ہی اس راز کو جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پا سکے،
اصل حقیقت یہ ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے تخفیف عذاب کی دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہری کے دو حصے کر کے ان قبروں پر ایک ایک نصب کر دیں،
جب تک ان میں تری رہے گی اس وقت تک ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائےگی تو توجیہ کی صحت وتائید کے لیے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح مسلم کے آخر میں آنے والی ایک حدیث موجود ہے۔
جس میں اس قسم کا ایک اور واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
اورحضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دریافت کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے (شرح نووی: 1/ 141)

قرآن مجید نے ایک اصول اور ضابطہ بیان فرمایا ہے۔
﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴾ انسان کو وہی چیز حاصل ہوتی ہے جس کے لیے اس نے محنت وکوشش کی ہے اس ضابطہ سے استشار کے لیے حنفی اصول کے مطابق حدیث متواتر یا مشہور کی ضرورت ہے خبر واحد سے بھی یہ کام نہیں چلے گا،
تو یہ کس قدر تعجب انگیز بات ہے کہ اس تر شاخ کو دلیل بنایا جاتا ہے یا ضعیف احادیث پیش کی جاتی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 678]

Sahih Muslim Hadith 678 in Urdu