صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب استحباب خفض الصوت بالذكر إلا في المواضع التي ورد الشرع برفعه فيها كالتلبية وغيرها و استحباب الإكثار من قول لا حول ولا قوة إلا بالله
باب: آہستہ سے ذکر کرنا افضل ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2704 ترقیم شاملہ: -- 6867
وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فِيهِ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.
خالد حذاء نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تم جس کو پکار رہے ہو وہ تم میں سے کسی کی اونٹنی کی گردن کی نسبت بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔“ اور ان (خالد حذاء) کی حدیث میں «لا حول ولا قوة الا باللہ» کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6867]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،آگے مذکورہ بالاحدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے،آپ نے فرمایا:"جس ذات کوتم پکاررہے ہو،وہ تمہاری اونٹنی کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔"اور اس حدیث میں "لاحول ولا قوة الا بالله" کاذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6867]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
أبو عثمان النهدي ← عبد الله بن قيس الأشعري