الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب براءة حرم النبي صلى الله عليه وسلم من الريبة:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی کی برأت اور عصمت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2771 ترقیم شاملہ: -- 7023
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُتَّهَمُ بِأُمِّ وَلَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِعَلِيٍّ اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ "، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ، فَإِذَا هُوَ فِي رَكِيٍّ يَتَبَرَّدُ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: اخْرُجْ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُ، فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَكَفَّ عَلِيٌّ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَهُ ذَكَرٌ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد (آپ کے فرزند کی والدہ) کے ساتھ مہتم کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو وہ ایک اتھلے (کم گہرے) کنویں میں ٹھنڈک کے لیے غسل کر رہا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: نکلو، اور (سہارا دینے کے لیے) اسے اپنا ہاتھ پکڑایا اور اسے باہر نکالا تو دیکھا کہ وہ ہیجڑا ہے، اس کا عضو مخصوص تھا ہی نہیں۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ (اس کو قتل کرنے سے) رُک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! وہ تو ہیجڑا ہے، اس کا عضو مخصوص ہے ہی نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7023]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُم ولد (حضرت ماریہ قبطیہ) سے مہتم کیا جاتا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا:"جاؤ اس کی گردن اڑادو۔" تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پاس پہنچے اور وہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے ایک کنویں میں غسل کر رہا تھا سو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے کہا، باہر نکل، اس نے انہیں اپنا ہاتھ پکڑا دیا اور انھوں نے اسے نکال لیا، دیکھا تو اس عضو مخصوص کٹا ہوا تھا، اس کا عضو تناسل نہیں تھا اس لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے قتل کرنے سے رک گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا عضو مخصوص کٹا ہوا ہے، اس کا عضو تناسل تو ہے ہی نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7023]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2771
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7023 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7023
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
بعض دفعہ کسی انسان پر بلاوجہ،
بدظنی سے کام لیتے ہوئے تہمت لگادی جاتی ہے،
جیسا کے یہ آدمی قبطی تھا بقول بعض حضرت ماریہ کا چچازاد تھا اور انھی کے ساتھ مصر سے آیا تھا اور حضرت ماریہ قبطیہ سے اپنے وطن کی باشندہ ہونے کی وجہ سے گفتگو کر لیتاتھا تو لوگوں نے اس پر یہ الزام لگا دیا اور لوگوں کے کہنے پر آپ اس کو قتل کر نے کا حکم دیا،
جب حقیقت حال سامنے آئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ قتل کرنے سے رک گئے اور آپ کو آکرآگاہ کیا،
جس سے معلوم ہوا،
قاضی تو گواہوں کا پابند ہے،
جھوٹ اور سچ کے ذمہ دار وہ ہیں،
باقی رہا یہ مسئلہ کہ وہ منافق آدمی تھا،
آپ نے کسی اور سبب سے قتل کا حکم دیاتھا تو اس پر یہ سوال پیداہوتا ہے،
پھر آپ نے حضرت علی کو سبب کیوں نہ بتایا،
تاکہ وہ قتل کرنے سے باز نہ رہتے اور اگر وحی سے آپ کو اس کے عضوتناسل کے کٹے ہونے کا علم ہو گیا تھا تو آپ نے خود ہی لوگوں کو یہ کیوں نہ بتادیا،
اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ بغیر تفتیش وتحقیق کے قتل کردیتے تو پھر خواہ مخواہ آپ کی ام ولد متہم ٹھہرتی،
چونکہ یہ روایت انتہائی مجمل ہے،
معلوم نہیں حضرت علی کے بتانے کے بعدکہ اس کا عضو مخصوص نہیں ہے آپ نے کیا کہااس لیے اس کے بغیر کوئی قطعی بات نہیں کہی جاسکتی،
اصل مقصود صرف حرم نبوی کی ان بد حرکات سے برات کا اظہار ہے۔
فوائد ومسائل:
حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
بعض دفعہ کسی انسان پر بلاوجہ،
بدظنی سے کام لیتے ہوئے تہمت لگادی جاتی ہے،
جیسا کے یہ آدمی قبطی تھا بقول بعض حضرت ماریہ کا چچازاد تھا اور انھی کے ساتھ مصر سے آیا تھا اور حضرت ماریہ قبطیہ سے اپنے وطن کی باشندہ ہونے کی وجہ سے گفتگو کر لیتاتھا تو لوگوں نے اس پر یہ الزام لگا دیا اور لوگوں کے کہنے پر آپ اس کو قتل کر نے کا حکم دیا،
جب حقیقت حال سامنے آئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ قتل کرنے سے رک گئے اور آپ کو آکرآگاہ کیا،
جس سے معلوم ہوا،
قاضی تو گواہوں کا پابند ہے،
جھوٹ اور سچ کے ذمہ دار وہ ہیں،
باقی رہا یہ مسئلہ کہ وہ منافق آدمی تھا،
آپ نے کسی اور سبب سے قتل کا حکم دیاتھا تو اس پر یہ سوال پیداہوتا ہے،
پھر آپ نے حضرت علی کو سبب کیوں نہ بتایا،
تاکہ وہ قتل کرنے سے باز نہ رہتے اور اگر وحی سے آپ کو اس کے عضوتناسل کے کٹے ہونے کا علم ہو گیا تھا تو آپ نے خود ہی لوگوں کو یہ کیوں نہ بتادیا،
اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ بغیر تفتیش وتحقیق کے قتل کردیتے تو پھر خواہ مخواہ آپ کی ام ولد متہم ٹھہرتی،
چونکہ یہ روایت انتہائی مجمل ہے،
معلوم نہیں حضرت علی کے بتانے کے بعدکہ اس کا عضو مخصوص نہیں ہے آپ نے کیا کہااس لیے اس کے بغیر کوئی قطعی بات نہیں کہی جاسکتی،
اصل مقصود صرف حرم نبوی کی ان بد حرکات سے برات کا اظہار ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7023]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري