صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب انشقاق القمر:
باب: شق القمر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2800 ترقیم شاملہ: -- 7073
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ، فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً، وَكَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اشْهَدْ "،
شعبہ نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہو کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا (اس پہاڑ کے پیچھے نظر آتا تھا) اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ بن جاؤ“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7073]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدور میں چاند دو حصوں میں بٹ گیا، ایک ٹکڑےکوپہاڑ نے(اپنے پیچھے)چھپالیا اور ایک ٹکڑاپہاڑکےاوپرتھاچنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اے اللہ!گواہ رہنا۔" [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7073]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2800
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7073 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7073
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
چاند کا شق ہونا،
آپ کا ایک عظیم معجزہ ہے،
جسے بہت سے صحابہ کرام نے بیان کیا ہے اور قرآن مجید میں بھی،
اس کا ذکر موجود ہے،
بعض روایات میں ہے،
مکہ کے کافروں نے یہ دیکھ کر کہا،
ابو کبشہ کے بیٹے نے تم پر جادو کردیا ہے،
مسافروں کا انتظار کرو،
اگر انہوں نے بھی تمہاری طرح شق قمر دیکھا ہوتو پھر یہ سچ ہے،
اگر انہوں نے تمہاری طرح چاند کو پھٹتا نہ دیکھا ہو تو یہ جادو ہے،
جو تم پر اس نے کیا ہےآنے والوں سے پوچها گیا تو ہر جہت سے آنے والے مسافروں نے اس کی گواہی دی۔
''
فوائد ومسائل:
چاند کا شق ہونا،
آپ کا ایک عظیم معجزہ ہے،
جسے بہت سے صحابہ کرام نے بیان کیا ہے اور قرآن مجید میں بھی،
اس کا ذکر موجود ہے،
بعض روایات میں ہے،
مکہ کے کافروں نے یہ دیکھ کر کہا،
ابو کبشہ کے بیٹے نے تم پر جادو کردیا ہے،
مسافروں کا انتظار کرو،
اگر انہوں نے بھی تمہاری طرح شق قمر دیکھا ہوتو پھر یہ سچ ہے،
اگر انہوں نے تمہاری طرح چاند کو پھٹتا نہ دیکھا ہو تو یہ جادو ہے،
جو تم پر اس نے کیا ہےآنے والوں سے پوچها گیا تو ہر جہت سے آنے والے مسافروں نے اس کی گواہی دی۔
''
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7073]
Sahih Muslim Hadith 7073 in Urdu
عبد الله بن سخبرة الأزدي ← عبد الله بن مسعود