صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 2853 ترقیم شاملہ: -- 7187
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ "، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے معبدبن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتا ہے، (مگر ایسا کہ) اگر (کسی معاملے میں) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کر دے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اجذ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7187]
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا، ضرور، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کمزور شخص جس کو ضعیف خیال کیا جاتا ہو۔ اگر وہ اللہ کے اعتماد پر قسم کھا لے تو وہ اس کو پورا کر دے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اہل دوزخ کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ شخص جو بدخو، بھاری بھر کم، پیٹو اور متکبر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7187]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2853
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7187 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7187
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عتل:
بہت کھانے والا،
سخت مزاج،
بدخو،
سرکش،
بدگو گناہ گار،
جھگڑالو۔
(2)
جواظ:
تکبر سے چلنے والا،
مغرور،
اجڈ،
اکھڑ،
بسیارخور،
بھاری بھرکم۔
فوائد ومسائل:
جنت میں اکثریت ان لوگوں کی ہو گی،
جوضعیف،
کم دست،
متواضع اور گم نام ہوں گے،
لوگ ان کو کم تر اور حقیر خیال کریں گے،
لیکن اللہ کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہوگا،
اس وجہ سے اگر وہ اللہ کے کرم پر اعتماد کرتے ہوئے،
کسی چیز پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردے گا،
یا کسی چیز کا سوال کر کے کہہ دے،
اللہ کی قسم،
ایسے ہی ہوگا تو اللہ اس کی دعا قبول فرمالے گا۔
مفردات الحدیث:
(1)
عتل:
بہت کھانے والا،
سخت مزاج،
بدخو،
سرکش،
بدگو گناہ گار،
جھگڑالو۔
(2)
جواظ:
تکبر سے چلنے والا،
مغرور،
اجڈ،
اکھڑ،
بسیارخور،
بھاری بھرکم۔
فوائد ومسائل:
جنت میں اکثریت ان لوگوں کی ہو گی،
جوضعیف،
کم دست،
متواضع اور گم نام ہوں گے،
لوگ ان کو کم تر اور حقیر خیال کریں گے،
لیکن اللہ کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہوگا،
اس وجہ سے اگر وہ اللہ کے کرم پر اعتماد کرتے ہوئے،
کسی چیز پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردے گا،
یا کسی چیز کا سوال کر کے کہہ دے،
اللہ کی قسم،
ایسے ہی ہوگا تو اللہ اس کی دعا قبول فرمالے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7187]
Sahih Muslim Hadith 7187 in Urdu
معبد بن خالد الجدلي ← حارثة بن وهب الخزاعي