🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الخسف بالجيش الذي يؤم البيت:
باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر دھنسائے جانے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2884 ترقیم شاملہ: -- 7244
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَبَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ؟، فَقَالَ: " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ، قَالَ: " نَعَمْ، فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ، وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کے دوران (اضطراب کے عالم) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی، تو ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلے آپ نہیں کیا کرتے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عجیب بات ہے کہ (آخری زمانے میں) میری امت میں سے کچھ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف (کارروائی کرنے کے لیے) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! راستہ تو ہر طرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور (قیامت کے روز) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے، اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7244]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں اپنے جسم کو حرکت دی یا ہاتھ پیر ہلائے، چنانچہ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اپنی نیند میں ایسا کام کیا، جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیرت انگیز بات ہے، میری امت کے کچھ لوگ، ایک قریشی آدمی کی خاطر جو بیت اللہ کی پناہ لے چکا ہو گا، بیت اللہ کا رخ کریں گے، حتی کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان میں پہنچیں گے، انہیں دھنسا دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! راستہ تو ہر قسم کے لوگوں کو جمع کر دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان میں معاملہ سے آگاہ، اس کی بصیرت رکھنے والے، مجبور اور مسافر بھی ہوں گے، سب اکٹھے ہلاک ہو جائیں گے اور الگ الگ حیثیت سے، اللہ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن الزبير الأسدي، أبو بكر، أبو خبيب
Newعبد الله بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صحابي
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث
Newمحمد بن زياد القرشي ← عبد الله بن الزبير الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥القاسم بن الفضل الحداني، أبو المغيرة
Newالقاسم بن الفضل الحداني ← محمد بن زياد القرشي
ثقة رمي بالإرجاء
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد
Newيونس بن محمد المؤدب ← القاسم بن الفضل الحداني
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يونس بن محمد المؤدب
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2118
يغزو جيش الكعبة فإذا كانوا ببيداء من الأرض يخسف بأولهم وآخرهم قالت قلت يا رسول الله كيف يخسف بأولهم وآخرهم وفيهم أسواقهم ومن ليس منهم قال يخسف بأولهم وآخرهم ثم يبعثون على نياتهم
صحيح مسلم
7244
الطريق قد يجمع الناس قال نعم فيهم المستبصر والمجبور وابن السبيل يهلكون مهلكا واحدا ويصدرون مصادر شتى يبعثهم الله على نياتهم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7244 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7244
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عبث:
جسم کو جنبش دی،
ہاتھ پیر ہلائے المستبصر،
معاملہ کی بصیرت رکھنے والا۔
(2)
يصدرون مصادرشتي:
الگ الگ اور متفرق طور پر واپسی ہوگی،
ہر ایک سے اس کی نیت وعمل کے مطابق سلوک ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7244]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2118
2118. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء پر پہنچے گا تو اول سے آخر تک تمام لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تمام کوکیسے زمین میں دھنسا دیا جائےگا؟ جبکہ ان میں دوکانداربھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپ نے فرمایا: اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر انھیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2118]
حدیث حاشیہ:
سو اس سے کعبہ میں بازاروں کا وجود ثابت ہوا۔
یہی مقصد باب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2118]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2118
2118. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء پر پہنچے گا تو اول سے آخر تک تمام لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تمام کوکیسے زمین میں دھنسا دیا جائےگا؟ جبکہ ان میں دوکانداربھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپ نے فرمایا: اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر انھیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2118]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے مطابق مقام بیداء میں بازاروں یا بازار میں کام کرنے والے دکانداروں کا ثبوت ملتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے صرف اسی کو ثابت کرنے کے لیے حدیث کی ذکر کی ہے۔
(2)
بازار میں اگرچہ شوروشغب ہوتا ہے لیکن اگر شرفاء اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے وہاں جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل شر اور فتنہ پرور لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھنا خود اپنی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
(4)
بعض روایات میں"أشرافهم"کے الفاظ ہیں اس بنا پر بخاری کے لیے بیان کردہ الفاظ أسوافهم پر تصحیف کا اعتراض کیا گیا ہے جو مبنی بر حقیقت نہیں۔
(فتح الباري: 430/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2118]

Sahih Muslim Hadith 7244 in Urdu