🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة وغسل الرجل والمراة في إناء واحد في حالة واحدة وغسل احدهما بفضل الآخر:
باب: غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار، اور شوہر اور بیوی کا ایک برتن سے پانی لے کر ایک حالت میں غسل کرنا، اور ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 320 ترقیم شاملہ: -- 728
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، أَنَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ: " فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ قَدْرِ الصَّاعِ، فَاغْتَسَلَتْ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا سِتْرٌ، وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا "، قَالَ: وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ، حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَة.
ابوبکر بن حفص نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن (بن عوف جو حضرت عائشہ کے رضاعی بھانجے تھے) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی (عبداللہ بن یزید) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، چنانچہ انہوں نے ایک صاع کے بقدر برتن منگوایا اور اس سے غسل کیا، ہمارے اور ان کے درمیان (دیوار وغیرہ کا) پردہ حائل تھا، اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا۔ ابوسلمہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اپنے سر (کے بالوں) کو کاٹ لیتی تھیں یہاں تک کہ وہ وفرہ (کانوں کے نچلے حصے کی لمبائی کے بال) کی طرح ہو جاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 728]
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی (ابو سلمہ)، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے ایک صاع کے بقدر برتن منگوایا اور اس سے غسل کیا، ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا اور انہوں نے اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا، ابو سلمہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اپنے سر کے بالوں کو «الْوَفْرَةِ» وفرہ کی طرح بنا لیتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 728]
ترقیم فوادعبدالباقی: 320
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن حفص القرشي، أبو بكر
Newعبد الله بن حفص القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن حفص القرشي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو
Newعبيد الله بن معاذ العنبري ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 728 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 728
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يَأْخُذْنَ مِنْ رَؤُسِهِنَّ:
اپنے سر کے بال وفرۃ کی طرح بنا لیتیں،
عورتیں جب غسل کرتی ہیں اگر ان کے بال کھلے ہوں تو وہ ان کو اکٹھا کر کے،
سر یا گدی پر رکھ لیتی ہیں،
تاکہ جسم پر پانی بہانا آسان ہو جائے،
اگر بال کھلے ہوں اور پشت پر پڑے رہے ہوں تو ان کے نیچے سے جسم کو دھونا دقت اور کلفت کا باعث بنتا ہے،
اس لیے اخذ کا معنی پکڑنا ہے،
کاٹنا نہیں ہے۔
(2)
وفرة:
عام اہل لغت کے نزدیک کانوں تک کے بال اور امام اصمعی کے نزدیک کندھوں پر پڑنے والے بال کو کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید اور رضاعی بھانجے ابوسلمہ کو غسل کر کے دکھایا تاکہ انہیں غسل کے پانی کے لیے پانی کی مقدار اور غسل کی کیفیت دونوں کا علم ہو سکے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ محرم کے لیے عورت کے بدن کا اوپر والا حصہ دیکھنا جائز ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سر کے دھونے کا طریقہ دکھلایا تھا اور باقی بدن مستور تھا۔
ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن ام کلثوم نے دودھ پلایا تھا۔
(فتح المهلم ج: 1 ص 472)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 728]

Sahih Muslim Hadith 728 in Urdu