صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب في سكنى المدينة وعمارتها قبل الساعة:
باب: قیامت سے پہلے مدینہ کی آبادی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2904 ترقیم شاملہ: -- 7291
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا، وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو، بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش ہو، پھر بارش ہو، لیکن زمین کوئی چیز نہ اگائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7291]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خشک سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ برسے لیکن قحط یہ ہے کہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں اور زمین سے کوئی پیداوار حاصل نہ ہو سکے۔“ یعنی زمین کوئی چیز نہ اگائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2904
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7291 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7291
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عام طور پر خشک سالی کی صورت یہی ہوتی ہے کہ بارش نہیں ہوتی اور زمین سیراب نہیں ہوتی،
اس لیے وہ کوئی چیز نہیں اگاتی،
لیکن قیامت کے قریب قحط کی شکل یہ ہوگی کہ بارش خوب خوب برسے گی،
جس سے زمین کو کاشت نہیں کیا جاسکے گا اور جوکچھ ہوگا،
وہ بارش کی کثرت سے گل سر جائے گا۔
فوائد ومسائل:
عام طور پر خشک سالی کی صورت یہی ہوتی ہے کہ بارش نہیں ہوتی اور زمین سیراب نہیں ہوتی،
اس لیے وہ کوئی چیز نہیں اگاتی،
لیکن قیامت کے قریب قحط کی شکل یہ ہوگی کہ بارش خوب خوب برسے گی،
جس سے زمین کو کاشت نہیں کیا جاسکے گا اور جوکچھ ہوگا،
وہ بارش کی کثرت سے گل سر جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7291]
Sahih Muslim Hadith 7291 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي