🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب في سكنى المدينة وعمارتها قبل الساعة:
باب: قیامت سے پہلے مدینہ کی آبادی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2904 ترقیم شاملہ: -- 7291
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا، وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو، بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش ہو، پھر بارش ہو، لیکن زمین کوئی چیز نہ اگائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7291]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خشک سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ برسے لیکن قحط یہ ہے کہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں اور زمین سے کوئی پیداوار حاصل نہ ہو سکے۔ یعنی زمین کوئی چیز نہ اگائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2904
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥يعقوب بن عبد الرحمن القاري
Newيعقوب بن عبد الرحمن القاري ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← يعقوب بن عبد الرحمن القاري
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7291 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7291
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عام طور پر خشک سالی کی صورت یہی ہوتی ہے کہ بارش نہیں ہوتی اور زمین سیراب نہیں ہوتی،
اس لیے وہ کوئی چیز نہیں اگاتی،
لیکن قیامت کے قریب قحط کی شکل یہ ہوگی کہ بارش خوب خوب برسے گی،
جس سے زمین کو کاشت نہیں کیا جاسکے گا اور جوکچھ ہوگا،
وہ بارش کی کثرت سے گل سر جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7291]

Sahih Muslim Hadith 7291 in Urdu