صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب الفتنة من المشرق من حيث يطلع قرنا الشيطان:
باب: مشرق سے فتنوں کا بیان جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 2905 ترقیم شاملہ: -- 7292
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ، يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ مشرق کا رخ کیے ہوئے فرما رہے تھے: ”سنو! فتنہ یہاں ہو گا، سنو! یہاں ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7292]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، جبکہ آپ کا رخ (مدینہ سے)مشرق کی طرف تھا:"خبردار!یقیناً فتنہ کی سر زمین ادھر ہے خبردار، فتنہ ادھر ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن رمح التجيبي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7292 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7292
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مدینہ سے مشرق میں عراق واقع ہے اور اسلام کی ابتدائی تاریخ میں تمام بدعتی فرقوں کا ظہور اس سرزمین سے ہوا ہے اور امت میں یہ فرقے اختلاف وانتشار کا باعث بنے ہیں اور نجد بلند علاقہ کو کہتے ہیں،
اس لیے علامہ خطابی نے لکھا ہےُُ ُ من كان بالمدينة كان نجده بادية العراق ونواحيها،
وهی مشرق اهل المدين (تکملہ ج 6 ص 315)
مدینہ میں رہنے والے کا نجد،
عراق کا صحراء اور اس کے اطراف ہیں اور یہی اہل مدینہ کا مشرق ہے،
اس لیے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت سالم رحمہُ اللہُ نے اس کا مصداق اہل عراق کو ٹھہرایا،
جیسا کے آگے آرہاہے۔
(تفصیل کیلئےدیکھئے منعتہ المنھم ج 4 ص 357،
یہ تفصیل قابل دید ہے)
فوائد ومسائل:
مدینہ سے مشرق میں عراق واقع ہے اور اسلام کی ابتدائی تاریخ میں تمام بدعتی فرقوں کا ظہور اس سرزمین سے ہوا ہے اور امت میں یہ فرقے اختلاف وانتشار کا باعث بنے ہیں اور نجد بلند علاقہ کو کہتے ہیں،
اس لیے علامہ خطابی نے لکھا ہےُُ ُ من كان بالمدينة كان نجده بادية العراق ونواحيها،
وهی مشرق اهل المدين (تکملہ ج 6 ص 315)
مدینہ میں رہنے والے کا نجد،
عراق کا صحراء اور اس کے اطراف ہیں اور یہی اہل مدینہ کا مشرق ہے،
اس لیے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت سالم رحمہُ اللہُ نے اس کا مصداق اہل عراق کو ٹھہرایا،
جیسا کے آگے آرہاہے۔
(تفصیل کیلئےدیکھئے منعتہ المنھم ج 4 ص 357،
یہ تفصیل قابل دید ہے)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7292]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي