صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب ذكر ابن صياد:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2932 ترقیم شاملہ: -- 7359
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ، فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلَأَ السِّكَّةَ، فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا ".
ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک راستے میں ابن صیاد سے ملے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کوئی ایسی بات کہی جس نے اسے غصہ دلا دیا تو وہ اتنا پھول گیا کہ اس نے (پوری) گلی کو بھر دیا، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان کو یہ خبر مل چکی تھی، انہوں نے ان سے فرمایا، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! تم ابن صیاد سے کیا چاہتے تھے؟ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”دجال غصہ آنے کی وجہ سے ہی (اپنی حقیقی صورت میں) برآمد ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7359]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مدینہ کے کسی راستے میں ابن صیاد سے ملاقات ہوگئی تو انہوں نے اسے ایسی بات کہی جس سے وہ ناراض ہو گیا اور اس قدر پھول گیا حتیٰ کہ اس نے گلی کو بھر دیا، چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور انہیں واقعہ پہنچ چکا تھا تو انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے! تم نے ابن صیاد کو کیوں چھیڑا؟ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ظہور کسی غصے کے آنے پر ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 7359 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← حفصة بنت عمر العدوية