🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر 
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2965 ترقیم شاملہ: -- 7432
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، قَالَ عَبَّاسٌ: حَدَّثَنَا، وقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ، فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ، فَنَزَلَ، فَقَالَ لَهُ: أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ، فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ، فَقَالَ اسْكُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ ".
بکیر بن مسمار نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں کے پاس تھے کہ ان کے بیٹے عمر (بن سعد) ان کے پاس آئے، جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا: میں اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ وہ اترے اور ان (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے کہا: آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس رہائش پذیر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ سلطنت کے بارے میں باہم لڑ رہے ہیں (آپ کبھی اپنا حصہ مانگیں)۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور کہا: خاموش رہو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو، غنی ہو، گم نام (گوشہ نشین) ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7432]
عامر رحمۃ اللہ علیہ بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اونٹوں کے پاس تھے کہ ان کےبیٹےعمر(بن سعد)ان کے پاس آئے جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا: میں اس سوار کے شرسے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں وہ اترے اور ان(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے کہا:آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس رہائش پذیر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ سلطنت کے بارے میں باہم لڑرہے ہیں (آپ کبھی اپناحصہ مانگیں) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور کہا:خاموش رہو!میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے،"اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو، غنی ہو، گم نام(گوشہ نشیں)ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7432]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2965
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥عامر بن سعد القرشي
Newعامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥بكير بن مسمار القرشي، أبو محمد
Newبكير بن مسمار القرشي ← عامر بن سعد القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الكبير بن عبد المجيد البصري، أبو بكر
Newعبد الكبير بن عبد المجيد البصري ← بكير بن مسمار القرشي
ثقة
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← عبد الكبير بن عبد المجيد البصري
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← العباس بن عبد العظيم العنبري
ثقة حافظ إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7432 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7432
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جب فتنہ و فساد کا دور دورہ ہو،
لوگ دینی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں اور ان پر وعظ و نصیحت کار گرنہ ہوتو ایسی صورت میں،
سب سے الگ تھلگ ہوکر اللہ کی عبادت اور ذکرو فکر میں مشغول رہنا،
اس سے بہتر ہے کہ انسان خود بھی مفادات کی جنگ میں شریک ہوجائے،
ہاں اگر وہ لوگوں کے درمیان رہ کردار ادا کرسکتا ہو،
تو پھر ان کے درمیان رہنا بہتر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7432]