🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر 
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2967 ترقیم شاملہ: -- 7435
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ، وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا، وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا، فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا، وَوَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ أَفَعَجِبْتُمْ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا، فَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَاقِبَتِهَا مُلْكًا، فَسَتَخْبُرُونَ وَتُجَرِّبُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا "،
شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حمید بن بلال نے خالد بن عمیر عدوی سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دن (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بصرہ کے عامل) حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر کہا: حمد و ثنا کے بعد بے شک یہ دنیا خاتمے کے قریب ہو گئی ہے اور اس (کی مہلت) میں سے تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے جس طرح برتن کے آخری قطرے ہوتے ہیں جنھیں برتن والا انڈیل رہا ہوتا ہے اور تم اس دنیا سے اس گھر کی طرف منتقل ہو رہے ہو جس پر زوال نہیں آئے گا۔ جو تمھارے پاس ہے اس میں سے بہترین متاع کے ساتھ آگے جاؤ۔ کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جاتا ہے تو وہ ستر سال گرتا رہتا ہے۔ اس کی تہ تک نہیں پہنچتا۔ اور اللہ کی قسم! یہ (جہنم) پوری طرح بھر جائے گی۔ کیا تمھیں اس پر تعجب ہے؟ اور ہمیں بتایا گیا کہ جنت کے کواٹروں میں سے دو کواٹروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے اور اس پر ایک دن آئے گا جب وہ ازدحام کے سبب تنگ پڑ جائے گا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں میں تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔ میں نے ایک چادر اٹھائی تو اسے اپنے اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا، آدھی میں نے کمر پر باندھی اور آدھی سعد رضی اللہ عنہ نے، اب ہم میں سے ہر کوئی شہروں میں سے کسی شہر کا امیر بن گیا ہے۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاؤں اور کبھی کوئی نبوت نہیں تھی، مگر ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ اس کا پچھلا حصہ بادشاہت میں بدل گیا۔ جلد ہی تمھیں (اس کا) پتہ چل جائے گا اور ہمارے بعد کے امیروں کا (بھی تم لوگ خود) تجربہ کر لو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7435]
خالد بن عمیر عدوی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: حمد و ثنا کے بعد، بے شک یہ دنیا خاتمے کے قریب ہو گئی ہے اور اس (کی مہلت) میں سے تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے جس طرح برتن کے آخری قطرے ہوتے ہیں جنہیں برتن والا انڈیل رہا ہوتا ہے اور تم اس دنیا سے اس گھر کی طرف منتقل ہو رہے ہو جس پر زوال نہیں آئے گا، لہٰذا جو تمہارے پاس ہے اس میں سے بہترین متاع کے ساتھ آگے جاؤ، کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جاتا ہے تو وہ ستر سال گرتا رہتا ہے اور اس کی تہ تک نہیں پہنچتا۔ اور اللہ کی قسم! یہ (جہنم) پوری طرح بھر جائے گی، کیا تمہیں اس پر تعجب ہے؟ اور ہمیں بتایا گیا کہ جنت کے کواڑوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے اور اس پر ایک دن آئے گا جب وہ ازدحام کے سبب تنگ پڑ جائے گا۔ اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں میں تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں، میں نے ایک چادر اٹھائی تو اسے اپنے اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہما کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا، آدھی میں نے کمر پر باندھی اور آدھی سعد رضی اللہ عنہ نے، اب ہم میں سے ہر کوئی شہروں میں سے کسی شہر کا امیر بن گیا ہے، میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاؤں، اور کبھی کوئی نبوت نہیں تھی مگر ختم ہو گئی یہاں تک کہ اس کا پچھلا حصہ بادشاہت میں بدل گیا، جلد ہی تمہیں (اس کا) پتا چل جائے گا اور ہمارے بعد کے امیروں کا (بھی تم لوگ خود) تجربہ کر لو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7435]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2967
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عتبة بن غزوان المازني، أبو عبد الله، أبو غزوانصحابي
👤←👥خالد بن عمير العدوي
Newخالد بن عمير العدوي ← عتبة بن غزوان المازني
مختلف في صحبته
👤←👥حميد بن هلال العدوي، أبو نصر
Newحميد بن هلال العدوي ← خالد بن عمير العدوي
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← حميد بن هلال العدوي
ثقة ثقة
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد
Newشيبان بن أبي شيبة الحبطي ← سليمان بن المغيرة القيسي
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7435 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7435
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
آذنت بصوم:
اس نے انقطاع وخاتمہ کا اعلان کردیا ہے اور (2)
ولت حداء،
تیز رفتاری سے پیچھے کو بھاگ رہی ہے (3)
صبابة:
برتن میں بچ رہ جانے والا اور آخری قطرہ۔
(4)
يتصابها:
آخری قطرہ کوپی رہاہے،
(5)
مابحضرتكم:
جو تمہارے پاس ہے،
(6)
كظيظ:
بھری ہوئی۔
(7)
قرحت،
چھل گئے،
زخمی ہوگئے،
۔
(8)
اشداق،
شدق کی جمع ہے،
باچھیں(پتوں کی خشکی اور حرارت وگرمی سے زخمی ہوگئے تھے) (9)
لم تكن نبوة قط الاتنا سخت،
نبوت،
خلافت نبوت سے گزر کر،
بادشاہت کی شکل اختیار کرگئی،
نبی کے ماننے والے،
اس کے خلفاء کے خاتمہ کے بعد بادشاہ بن گئے اور بادشاہوں والا وطیرہ اختیارکیا اور تم(10)
ستخبرون،
اس تبدیلی کاتجربہ اور مشاہدہ کرلوگے،
جب ہمارے بعد آنے والے امراء سے تمہیں واسطہ پڑے گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کی موجودگی میں جو سیرت و کردار بنتا ہے،
دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کا رحجان نمایاں ہوتا ہے،
وہ نبی کی وفات کےبعد آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے،
خلافت تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں،
پھر ان میں نمایاں تبدیلی ہوجاتی ہے اور امت میں بادشاہت کے اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7435]

Sahih Muslim Hadith 7435 in Urdu