صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب النهي عن الدخول علٰي اهل الحجر إلا من يدخل باكيا
باب: قوم ثمود کے گھروں میں جانے کی ممانعت مگر جو روتا ہوا جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 2981 ترقیم شاملہ: -- 7466
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ، فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا، وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا، وَيَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ "،
شعیب بن اسحٰق نے کہا: ہمیں عبید اللہ نے نافع سے خبر دی، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (سفر کرنے والے) لوگ سرزمین ثمود حجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا (بھی) گوندھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ انہوں نے جو پانی بھرا ہے وہ بہا دیں اور گندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور ان سے کہا: کہ وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں (حضرت صالح رضی اللہ عنہ کی) اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7466]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرنے والے لوگ سرزمینِ ثمود، حِجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا (بھی) گوندھ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: ”انہوں نے جو پانی بھرا ہے وہ بہا دیں اور گندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں“ اور ان سے فرمایا کہ: ”وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2981
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7466 کے فوائد و مسائل
صحيح مسلم مختصر مع شرح نووي: تحت الحديث صحيح مسلم 7466
� تشریح:
نووی رحمہ اللہ نے کہا: ”اس سے معلوم ہوا کہ ظالمین کے دیار میں خضوع اور مراقبہ سے جائے اور بہتر یہ ہے کہ جلد وہاں سے نکل جائے اور وہاں کا کھانا اور پانی استعمال نہ کرے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کھانا آدمی نہ کھا سکے وہ جانور کو کھلا دینا چاہیے۔“ (انتھیٰ)
نووی رحمہ اللہ نے کہا: ”اس سے معلوم ہوا کہ ظالمین کے دیار میں خضوع اور مراقبہ سے جائے اور بہتر یہ ہے کہ جلد وہاں سے نکل جائے اور وہاں کا کھانا اور پانی استعمال نہ کرے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کھانا آدمی نہ کھا سکے وہ جانور کو کھلا دینا چاہیے۔“ (انتھیٰ)
[مختصر شرح نووی، حدیث/صفحہ نمبر: 7466]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7466
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جن کنووں سے ثمودی پانی پیتے تھے،
وہ نجس یا پلید نہ تھا،
صرف ان کی سیرت و کردار سے نفرت و کراہت کے اظہار کے لیے ان کے کنووں سے پانی نکالنے سے منع کیا گیا،
حیوانات چونکہ مکلف نہیں ہیں،
اس لیے آٹا ان کو کھلا دیا گیا اور جس کنویں پر اونٹنی آتی تھی،
اس کا پتہ آپ کو وحی کے ذریعہ چل گیا،
یا شہرت سے۔
فوائد ومسائل:
جن کنووں سے ثمودی پانی پیتے تھے،
وہ نجس یا پلید نہ تھا،
صرف ان کی سیرت و کردار سے نفرت و کراہت کے اظہار کے لیے ان کے کنووں سے پانی نکالنے سے منع کیا گیا،
حیوانات چونکہ مکلف نہیں ہیں،
اس لیے آٹا ان کو کھلا دیا گیا اور جس کنویں پر اونٹنی آتی تھی،
اس کا پتہ آپ کو وحی کے ذریعہ چل گیا،
یا شہرت سے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7466]
Sahih Muslim Hadith 7466 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي