صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب فضل الإنفاق علي المساكين وابن السبيل
باب: مسکین اور مسافر پر خرچ کرنے کا ثواب۔
ترقیم عبدالباقی: 2984 ترقیم شاملہ: -- 7474
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَأَجْعَلُ ثُلُثَهُ فِي الْمَسَاكِينِ وَالسَّائِلِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ.
ابوداود نے ہمیں خبر دی، ہمیں عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں وہب بن کیسان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (اس طرح) کہا: اس کا ایک تہائی مسکینوں، سوال کرنے والوں اور مسافر کے لیے مختص کر دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7474]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں جس میں یہ ہے: ”اور میں اس کا ایک تہائی مسکینوں، مانگنے والوں اور مسافروں پر خرچ کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7474]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2984
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥وهب بن كيسان القرشي، أبو نعيم | ثقة | |
👤←👥عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، أبو عبد الله، أبو الأصبغ عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ← وهب بن كيسان القرشي | ثقة فقيه مصنف | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله أحمد بن عبدة الضبي ← أبو داود الطيالسي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7474 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7474
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
تنحي:
ایک طرف کا رخ کیا،
الگ ہوکر چلاگیا۔
(2)
حره:
سیاہ کنکروں والی زمین۔
(3)
شرجة:
نالی،
اس کی جمع شراج ہے۔
(4)
مسحاة:
وہ آلہ جس سے زمین کو کھودا جاتا ہے،
کسی۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
زمین یا باغ کی پیداوار کے حاصل ہوتے ہی اس سے کچھ حصہ نیک کاموں کے لیے،
فقراء محتاجوں اور ضرور تمندوں کے لیے الگ کرلینا اور کچھ حصہ زمین کی بہتری اور اصلاح پر نیک نیتی سے خرچ کرنا خیرو برکت کا باعث بنتا ہے اور ایسا زمیندارہ ناپسندیدہ ہونے کی بجائے فضیلت کا باعث ہے اور پیداوار سے عُشر (دسواں حصہ)
سے زائد خرچ کرنا پسندیدہ طرز عمل ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
تنحي:
ایک طرف کا رخ کیا،
الگ ہوکر چلاگیا۔
(2)
حره:
سیاہ کنکروں والی زمین۔
(3)
شرجة:
نالی،
اس کی جمع شراج ہے۔
(4)
مسحاة:
وہ آلہ جس سے زمین کو کھودا جاتا ہے،
کسی۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
زمین یا باغ کی پیداوار کے حاصل ہوتے ہی اس سے کچھ حصہ نیک کاموں کے لیے،
فقراء محتاجوں اور ضرور تمندوں کے لیے الگ کرلینا اور کچھ حصہ زمین کی بہتری اور اصلاح پر نیک نیتی سے خرچ کرنا خیرو برکت کا باعث بنتا ہے اور ایسا زمیندارہ ناپسندیدہ ہونے کی بجائے فضیلت کا باعث ہے اور پیداوار سے عُشر (دسواں حصہ)
سے زائد خرچ کرنا پسندیدہ طرز عمل ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7474]
Sahih Muslim Hadith 7474 in Urdu
عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ← وهب بن كيسان القرشي