صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب فضل الإنفاق علي المساكين وابن السبيل
باب: مسکین اور مسافر پر خرچ کرنے کا ثواب۔
ترقیم عبدالباقی: 2984 ترقیم شاملہ: -- 7473
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ، قَالَ: فُلَانٌ لِلِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ، يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا، قَالَ: أَمَّا إِذْ قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ "،
یزید بن ہارون نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے وہب بن کیسان سے خبر دی، انہوں نے عبید بن عمیر لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”ایک دفعہ ایک شخص زمین میں ایک صحرائی ٹکڑے پر کھڑا تھا۔ اس نے ایک بادل میں آواز سنی: ’فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔‘ وہ بادل ایک جانب بنا اور ایک پتھریلی زمین میں اپنا پانی انڈیل دیا۔ پانی کے بہاؤ والی ندیوں میں سے ایک ندی نے وہ سارا پانی اپنے اندر لے لیا۔ وہ شخص پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا تو وہاں ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنے کدال سے پانی کا رخ (اپنے باغ کی طرف) پھیر رہا تھا۔ اس نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تمھارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں، وہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ اس (آدمی) نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تم نے مجھ سے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس بادل میں، جس کا یہ پانی ہے، (کسی کو) یہ کہتے سنا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کرو، تمھارا نام لیا تھا۔ تم اس میں کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: تم نے یہ بات کہہ دی ہے تو میں (تمھیں بتا دیتا ہوں)، اس باغ سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے، میں اس پر نظر ڈال کر اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے گھروالے کھاتے ہیں۔ اور ایک تہائی اسی (باغ کی دیکھ بھال) میں لگا دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7473]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:"ایک دفعہ ایک شخص زمین میں ایک صحرائی ٹکڑے پر کھڑاتھا۔ اس نے ایک بادل میں آوازسنی:"فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔"وہ بادل ایک جانب بنا اور ایک پتھریلی زمین میں اپناپانی انڈیل دیا۔پانی کے بہاؤوالی ندیوں میں سے ایک ندی نے وہ ساراپانی اپنے اندر لے لیا۔ وہ شخص پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا تو وہاں ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنے کدال سے پانی کا رخ (اپنے باغ کی طرف) پھیررہا ہے۔ اس نے اس سے کہا:اللہ کےبندے!تمھارا نام کیا ہے؟اس نے کہا:فلاں وہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا۔اس (آدمی)نے اس سے کہا: اللہ کے بندے!تم نے مجھ سے میرانام کیوں پوچھا ہے؟اس نے کہا:میں نے اس بادل میں جس کا یہ پانی ہے (کسی کو)یہ کہتے سناتھا۔فلاں کے باغ کو سیراب کرو تمھارا نام لیا تھا۔تم اس میں کیا کرتے ہو۔"اس نے جواب دیا تم نے یہ بات کہہ دی ہے تو میں(تمھیں بتادیتا ہوں)اس باغ سے جو کچھ حاصل ہوتا ہےمیں اس پر نظر ڈال کر اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کردیتا ہوں ایک تہائی میں اور میرے گھروالے کھاتے ہیں۔اور ایک تہائی اسی میں لگادیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7473]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2984
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبيد بن عمير الجندعي ← أبو هريرة الدوسي